نجم سیٹھی کون ہے ؟ دیکهئے چونکا دینے
والا کالم .... حیرت اس بات پر ہے کہ یہ شخص اچانک سب سے بڑے صوبے کے
نگران وزیر اعلیٰ بنتے ہیں ؛ کبهی بال اور بلا ہاتھ میں نہیں لیا ہے ؛ مگر
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور پهر پاکستان سپر لیگ کے چیئرمین بهی بن
جاتے ہیں ...
=======================
محترمہ سیدہ میمنت حسین اور ان کے شوہر۔
پہلے محترمہ کا کچھ تعارف اور پھر ان کے شوہر پر مختصر نظر۔
( تحریر محمد عبدہ )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دائرے میں نظر آنے والی خاتون کا نام سیدہ میمنت حسین ہے۔ محترمہ کی لاہور
مال روڈ پر ریگل چوک کے پاس ایک انگریزی کتابوں کی بہت بڑی دوکان ہوتی ہے۔
جس میں ایک پبلشرز ادارہ بھی ہے۔ اس کا نام وینگارڈ بکس Vanguard Books
ہے۔ (اب یہ وہاں سے کسی اور جگہ منتقل ہوچکا ہے)۔ اس ادارہ کی خاص بات یہ
ہے کہ دنیا میں کہیں بھی اسلام ، نبی اکرم ص کے خلاف یا پاکستان کے خلاف
کوئی کتاب شائع ہو اور وہ کہیں سے نا ملے۔ آپ وینگارڈ بکس سے خرید سکتے
ہیں۔ اور اگر دستیاب نا ہوتو آرڈر کریں یہ آپ کو منگوا دیں گے۔ گستاخ رسول
سلمان رشدی ہو یا تسلیمہ نسرین کی کتابیں جب پورے پاکستان میں بین تھیں۔
سیدہ میمنت حسین کی وینگارڈ بکس سے باآسانی مل جاتی تھیں۔ تہمینہ درانی کی
متنازعہ کتاب My fuddle Lords بھی 1991 میں اسی ادارے نے شائع کی تھی۔
1999 میں سیدہ میمنت حسین کے شوہر نے حکومت کی کرپشن پر کچھ کالم لکھے اور
بھارت کے اندر تقریر کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔ اس وقت
بھارت میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر اشرف قاضی نے حکومت پاکستان کو ان کی
تقریر بھیجتے ہوئے پاکستان مخاف قرار دیا اس کے نتیجے میں ان پر غداری کا
مقدمہ دائر ہوا جیل میں بند کر دئیے گئے۔ کہ انہوں نے بھارت میں پاکستان
دشمن تقریریں کی ہیں۔ محترمہ نے پوری دنیا کو خط لکھے۔ اقوام متحدہ ،
امریکہ ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ورلڈ بنک سے مدد کی درخواست کی۔ اسلام آباد
میں امریکی سفیر نے نواز شریف سے خصوصی ملاقات میں اس کے شوہر کو بازیاب
کرنے کا کہا۔ ورلڈ بنک کے صدر جیمز نے خصوصی فون کئے۔ اور ایک ماہ بعد ان
کے شوہر واپس گھر آگئے۔
اس سے پہلے جب 1996 میں صدر لغاری نے بے
نظیر بھٹو کی حکومت کو کرپشن کے الزام میں برطرف کرنے کے بعد عام انتخابات
کرائے۔ معراج خالد کونگران وزیر اعظم مقرر کیا تو محترمہ کے شوہر ان کی
کابینہ میں احتساب کے وزیر بنے۔ نواز شریف کے دور میں بے نظیر بھٹو اور آصف
علی زرداری کے خلاف کرپشن کے الزام میں جو مقدمات قایم ہوئے وہ دراصل ان
کے شوہر کے دور میں تیار ہوئے تھے. 1996 میں ہی ان کی مدد واعانت سے بی بی
سی نے بے نظیر بھٹو اور آ صف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے الزامات کے بارہ
میں پرنسیس اینڈ پلے بوائے کے نام سے ایک ڈاکومنٹری تیار کی تھی۔
اس سے بھی کچھ پہلے 1984 میں محترمہ کے شوہر نے ایک کتاب اپنے اخبار میں
شائع کی۔ یہ کتاب کیمونسٹ، سوشلسٹ اور نیشنلسٹ نظریات کے مطابق لکھی گئی
جس وجہ سے ضیاء الحق حکومت نے ان کو جیل میں ڈال دیا لیکن کچھ عرصہ بعد
رہا کر دئیے گئے۔ اس سے بھی بہت پہلے کی بات ہے۔ 1973 میں لندن میں کریم
بلوچ نے آزاد بلوچستان کے نام سے ایک تحریک چلائی۔ کیمونسٹ نظریات کے حامل
’’لندن کلب‘‘ کے پانچ نوجوان بلوچستان لبریشن فرنٹ کی مسلح جدوجہد میں حصہ
لینے کےلیے خفیہ طور پر بلوچستان آئے۔ ان میں ایک احمد رشید ، پاکستان
فضایہ کے ایک اعلی افسرکے بیٹے دلیپ داس ، جسٹس رحمان کے دو بیٹے راشد
رحمان ، اسد رحمان اور محترمہ کے شوہر شامل تھے۔ ان میں سے کوئی بھی
بلوچستان کا رہنے والا نہیں تھا بلکہ پانچوں پنجابی تھے۔ کھوج لگانے پر پتہ
چلا کہ ’ لندن کلب‘ کے یہ پانچوں نوجوان ایک سال تک بلوچستان کے پہاڑوں
میں رہے جہاں انہیں تربیت دی گئی۔ بلوچی سکھائی گئی اور وضع قطع بلوچوں
ایسی بنائی گئی۔ جہاں یہ پانچوں پاک فوج کے خلاف گوریلا جنگ لڑتے رہے۔ دلیپ
داس سندھ کی سرحد کے قریب سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔ سیدہ میمنت
کے شوہر کو 1975 میں ذوالفقار علی بھٹو نے غداری کے الزام میں گرفتار کرکے
دوسرے بلوچ علیحدگی پسندون کے ساتھ حیدرآباد جیل میں قید کردیا۔ 1978 میں
جنرل ضیاء کی طرف سے عام معافی کے تحت ان تمام بلوچ رہنماوں کی رہائی کے
ساتھ ان کو بھی رہا کردیا گیا۔
اب آتے ہیں اصل کہانی پر۔ محترمہ
میمنت حسین اپنے اصل نام کی بجائے جگنو محسن کے نام سے مشہور ہیں۔ اور ان
کی اصل وجہ شہرت ان کے یہ مشہور ترین اور متنازعہ ترین شوہر ہیں جن کا نام
نجم سیٹھی ہے۔ یہ نجم سیٹھی صاحب ہی ہیں جن کی بھارتی نژاد چڑیا ممبئی اور
دہلی کا دانہ چگتی اور نظریہ پاکستان کے مقدس اوراق پر گستاخانہ چونچیں
مارتی رہتی ہے۔ کبھی ان کے بارے جنگ گروپ کے شاہین صہبائی کی طرف سے یورپ
میں تین ملین ڈالرز کا بنگلہ خریدنے کا سکینڈل سامنے آتا ہے۔ اور کبھی یہ
طلعت حسین جیسے صحافیوں کی طرف سے بے نقاب ہونے کے بعد اچانک روپوش ہو کر
بدیسی آقاؤں سے تازہ ہدایات لینے ولائیت پہنچ جاتے ہیں۔ حال ہی میں ” قومی
شناخت بمقابلہ مذہبی شناخت ” کے عنوان سے ان کا ایک کالم نظر سے گذرا۔
کالم کیا تھا حسب معمول حضرت قائد اعظم اور نظریہ پاکستان کیخلاف ہرزہ
سرائی سے بھری ان کی سابقہ زہر آلودہ تحریروں کا ہی اک تسلسل اور ہندوآتہ
کی طرف سے تفویض کردہ مقدس فریضہ مہا بھارتی کا پیشہ ورانہ شاہکار تھا۔
کالم پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ سیٹھی صاحب میں مجیب الرحمن، مہاتما گاندھی
اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کی روح حلوت کر چکی ہے۔
بہت اعلیٰ کالم ہے
ReplyDelete