February 12, 2016

انسانیت کے قاتل انسانیت کے مرنے کی منظر کشی کررہے ہیں ----

انسانیت کے قاتل انسانیت کے مرنے کی منظر کشی کررہے ہیں ----
افریقہ کے صحرا میں ایک صحافی کیمرا لئے تصویر بنا رہا تھا اس کی تصویر میڈیا پر آتے ہی زلزلہ برپا کردیتی ہے
تصویر دیکھ کر بہت سی آنکھوں سے آنسو بہے مغرب کو انسانیت کا علمبردار کہا گیا کہ مغرب کا ایک صحافی اتنے دور تپتے صحراء میں اس بچے تک پہنچتا ہے جو کمزوری اور نحیفی کے سبب چلنے سے معذور ہے اور اس کے پیچھے بیٹھا گدھ اس انتظار میں ہے کہ کب اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کرے اور گدھ کی غذاء کا سامان ہو، منظر تبدیل ہوتا ہے
جگہ وہی ہے افریقہ ایک انگریز ٹیٹوز زدہ عورت ہاتھ میں پانی کی بوتل پکڑے ایک نحیف اور انتہائی کمزور بچے کو پانی پلا رہی ہے، پل ہی پل میں پورے میڈیا پر اس انگریز خاتون کے چاچے مامے بھتیجے بھائی جاگ جاتے ہیں اور صرف وہی نہیں جاگتے بلکہ ان کے اندر کی انسانیت بھی تڑپ اٹھتی ہے،
دنیا بھر سے موم بتی مافیا، سول سوسائٹی کے نمائندے جاگ اٹھتے ہیں ہاتھوں میں شمعیں پکڑے ؟ میڈیا پر بیٹھے ریٹنگ ریٹنگ کا گیم کھیلتے میڈیائی ناگ بلند آوازوں سے انسانیت کا درس دینے لگ جاتے ہیں ؟
لیکن کسی نے سوال نہیں پوچھا کہ آخر انسانیت کو اس مقام تک پہنچایا کس نے ہے؟
انسانی حقوق کی باتیں کرنے والوں نے کبھی یہ سوال نہیں کیا کہ وہ کونسی طاقتیں تھیں جنہوں نے مشرق وسطی سے لیکر افریقہ تک کے ساحلوں کو بدامنی ، غربت ، کے اندھیرے سائے میں ڈبو دیا ہے،
وہ کون تھے جنہوں نے پرامن دنیا کو جلا کر آگ کا ڈھیر بنا دیا، وہ کون سی طاقتیں تھیں جنہوں نے اپنے امن کی خاطر نصف سے زیادہ دنیا کو آگ میں جھونک دیا ؟؟ جنہوں نے اپنی قوت و طاقت کے بل پر کئی خطوں کو بھوک افلاس کی دلدل میں دھکیل دیا؟؟؟
ظلم کرتے چلے جاؤ؟ انسانیت کو قتل کرتے چلے جاؤ؟ دنیا کے امن و امان کو تہس نہس کرکے رکھ دو؟ اور جب انسانیت بِلکتی ہوئی سِسکتی ہوئی اپنے گھٹنوں پر گھسٹتی ہوئی کچرے کے ڈھیر پر آگرے تو آپ کو انسانیت یاد آ جائے
خود قتل بھی کرتے چلے جاؤ اور کرامات بھی کرتے چلے جاؤ
کیا ان خود نمائی کے شوقین انگریزوں کے مامے اور بھتیجے بتا سکتے ہیں کہ مذہب سے پہلے انسانیت کی کیا اہمیت تھی،
کیا مذہب سے پہلے وہ انسانیت تھی کہ معمولی سی بات پر پورے پورے خاندان کو قتل کردیا جاتا تھا؟ اور صدیوں تک جنگ جاتی رہتی تھی؟؟
کیا وہ انسانیت تھی کہ بیٹی کو زندہ درگور کردیا جاتا؟
کیا وہ انسانیت تھی کہ جب انسان لباس سے عاری تھا؟ شرم و حیاء سے کوسوں دور تھا؟
اور پھر مذہب نے انسان کو کیا اہمیت دی؟؟؟؟
اس پانی پلانے والی تصویر کو دیکھنے والو ذرا 1400 سال پہلے کا وہ منظر بھی دیکھ لو جب صحابہ کرام رضوان اللہ آخری سانس لیتے ہوئے بھی اپنے بھائی کو پانی پلانے کی تمنا کررہے تھے،------انسانیت کو انسیت اور محبت کی جلا بخشنے والا مذہب ہے،---رب کا خوف انسانیت کا احترام پیدا کرتا ہے۔ ---زمین پر سجدہ کرنا انسان کو اس کی اصل پہچان بتاتا ہے،---
وہ کون تھا جس نے دنیا میں سب سے پہلے مزدور کے ہاتھوں کو چوم کر انسانیت کو عزت بخشی --- ﷺ
وہ کون تھا جس نے دشمن کی بیٹی کے سر پر دوپٹہ رکھ کر انسانیت کو عزت و احترام کا بلند مقام عطا کیا، ﷺ
وہ کون تھا جس کو پتھر مارے گئے- جس کے سر پر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دی گئی؟-- جس کا بائیکاٹ کیا گیا ؟ --جس کو اپنے شہر سے ہجرت پر مجبور کردیا گیا-- جس کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے؟ --لیکن پھر بھی وہ کانٹے بچھانے والی کی عیادت کو چلا آیا ﷺ ----لیکن پھر بھی اس نے اپنا بدلہ کسی سے نہ لیا؟ ---وہ میرے اور آپ کے نبی ﷺ تھے جنہوں نے بنی نوع انسان کو انسانیت کا شعور عطا کیا،
اگر آپ انسانیت کو مذہب سے جدا سمجھتے ہیں تو بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا ہوگا --کیونکہ جہلاء مکہ کی نزدیک بیٹی کی پیدائش غیرانسانی عمل تھا اس کو زندہ درگور کردینا انسانیت کا معیار تصور کیا جاتا تھا- انسانیت انسانیت کا راگ الاپنے والے موسمی دانشوروں سے صرف اتنی گزارش ہے کہ جناب
جو مذہب آپ کو انسانیت نہ سکھا سکے وہ اسلام نہیں ہوسکتا
اور جو انسانیت آپ کو رب کا سچا مذہب نہ بتلا سکے وہ انسانیت نہیں ہوسکتی
"خان"

1 comment: