February 18, 2016

سعودی عرب سے ایک دوست کی تحریر


پچھلے دس سال میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب "غم نا کریں" کے مصنف ڈاکٹر عائض القرنی کہتے ہین:
چند راتیں پہلے کی بات ہے، میں نے اپنے بستر پر، نیند آ جانے سے پہلے، اپنے پہلو میں سوئی، اپنی بیوی کے چہرے کو غور سے دیکھا، اس کی پیاری سی اور نرم و نازک شکل پر کافی دیر غور کرتا رہا، پھر میں نے اپنے آپ سے کہا:
کیا مسکین ہوتی ہے یہ عورت بھی،
برسوں اپنے باپ کی شفقت کے سائے تلے اپنے گھر والوں کے ساتھ پلتی بڑھتی ہے،
اور اب کہاں ایک ان واقف شخص کے ساتھ آ کر سوئی پڑی ہے،
اور اس نا واقف شخص کیلئے اس نے اپنے گھر بار ماں باپ چھوڑا،
والدین کا لاڈ و پیار اور ناز نخرا چھوڑا،
اپنے گھر کی راحت اور آرام کو چھوڑا،
اور ایسے شخص کے پاس آئی پڑی ہے جو بس اسے اچھے کی تلقین اور برائی سے روکتا ہے،
اس شخص کی دل و جان سے خدمت کرتی ہے،
اس کا دل بہلاتی ہے، اس کو راحت اور سکون دیتی ہے،
تاکہ بس اس کا رب اس سے راضی ہو جائے،
اور بس اس لئیے کہ یہ اس کیلئے اس کے دین کا حکم ہے،
سبحان اللہ۔۔۔۔
کہتے ہیں، پھر میں نے اپنے آپ سے سوال کیا:
کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ؛، جو بیدردی اور بے رحمی سے
اپنی بیویوں کو مار پیٹ لیتے ہیں،
بلکہ کچھ تو دھکے دیکر اپنے گھر سے بھی باہر نکال کرتے ہیں،
انہیں واپس اپنے ماں باپ کے اس گھر لا ڈالتے ہیں
جو وہ اس کی خاطر چھوڑ کر آئی تھی۔
کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ؛، جو بیویوں کو گھر میں ڈال کر دوستوں کے ساتھ نکل کھڑے ہوتے ہیں،
ہوٹلوں میں جا کر وہ کچھ کھاتے پیتے ہیں جس کا ان کے گھر میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا،
کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ؛، جن کے باہر اٹھنے بیٹھنے کا دورانیہ ان کے اپنے بیوی بچوں کے پاس اٹھنے بیٹھنے کے دورانیئے سے زیادہ ہوتا ہے۔
کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ؛، جو اپنے گھر کو اپنی بیوی کیلئے جیل بنا کر رکھ دیتے ہیں، نا انہیں کبھی باہر اندر لیجاتے ہیں، اور نا ہی کبھی ان کے پاس بیٹھ کر ان سے دل کا حال سنتے سناتے ہیں۔
کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ؛، جو اپنی بیوی کو ایسی حالت میں سلا دیتے ہیں کہ اس کے دل میں کسی چیز کی خلش اور چھبن تھی، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اس کا گلا کسی قہر سے دبا جا رہا تھا۔
کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ؛، جو اپنی راحت اور اپنی بہتر زندگی کیلئے گھر چھوڑ کر باہر نکل کھڑے ہوتے ہیں، پیچھے مڑ کر اپنی بیوی اور بچوں کی خبر بھی نہیں لیتے کہ ان پر ان کے باہر رہنے کے عرصہ میں کیا گزرتی ہوگی۔
کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ؛، جو ایسی ذمہ داری سے بھاگ جاتے ہیں جس کے بارے میں ان سے روز محشر پوچھ گچھ کی جائے گی جیسا کہ ہمارے پیارے رسول صل اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے۔
پیارے مرد: تو ہمیشہ یہی دہراتا رہتا ہے ناں! (یقیناً تم عورتوں کا فریب بڑا (خطرناک) ہوتا ہے، (سورة يوسف-28)
کبھی تو نے اپنے آپ سے یہ سوال بھی کیا ہے کہ اس آیت میں آخر کس فریب کا اور کیوں ذکر کیا گیا ہے؟
اور اس فریب کا ذکر اور قول کس کی زبان سے منسوب کیا گیا ہے؟
اور اس فریب کا سبب کیا بتایا گیا ہے؟
کسی کی محبت کیلئے! کسی کے حسن و جمال کیلئے! کسی کی شرم و حیا کیلئے! کیونکہ اس زمانے کی عورتوں کا عاشق مزاج ہونا عام بات تھی ناں!
اور پھر یہ قول نکلا ہوا کس کی زبان سے ہے؟
"عزیر" کی زبان سے ناں؟
اور پھر یہ قول نکلا کس کیلئے ہے؟
"عزیز" کی اپنی بیوی اورت اس زمانے کی عورتوں کیلئے ناں؟
لیکن؛
تو نے کبھی مردوں کے مکر و فریب کے بارے مین بھی سنا کیا؟
(اے میرے بیٹے! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا، ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی پُر فریب چال چلیں گے۔ بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، (سورۃ یوسف -5)
اس آیت کو پڑھ اور غور سے دیکھ؛ اس میں کس مکر و فریب کا ذکر کیا جا رہا ہے؟
پھر یہ بھی دیکھ کہ اس فریب کے بارے میں بتانے والا کون ہے؟
اور یہ فریب ہے کن کا؟ اور اس فریب کا سبب کیا ہے؟
حسد، کراہت، ناپسندیدگی، ظلم-
اور پھر یہ قول نکلا ہوا کس کی زبان سے ہے؟
سیدنا یعقوب علیہ السلام کی زبان مبارک سے ناں!
اور پھر یہ قول نکلا کس کیلئے ہے؟
خود سیدنا یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کیلئے ناں؟
اچھا تجھے اس بات کا تو علم ہے ہی
کہ تمہارے (مردوں کے) مکر و فریب کا ذکر عورتوں کے مکر و فریب سے پہلے بیان کیا گیا ہے۔ فرق واضح ہے کہ:
انہوں نے مکر و فریب کس سے سیکھا؟
انہوں نے یہ مکر و فریب بھی تو ہم مردوں سے ہی سیکھا۔
ہمارا (مردوں کا) مکر و فریب کراہت کیلئے تھا،
اور ان عورتوں کا مکر و فریب محبت کیلئے تھا۔
ہمارے مکر و فریب کا ذکر سیدنا یعقوب کی زبان سے نکلا ہے،
اور ان کے مکر و فریب کا ذکر "عزیز" کی زبان سے نکلا ہے۔
کس کی بات میں زیادہ حکمت و دانائی ہے؟

Now zalmi's in Peshawar

Now zalmi's in Peshawar can get our shirts, flees, jackets & black jackets from our official merchandiser located in Peshawar Sadar
Ziddis tailors & droppers
Peshawar Sadar
Opposite Junaid jamahed outlet
Near GPO

Contact No.
0315-9326162

نجم سیٹھی کون ہے ؟

نجم سیٹھی کون ہے ؟ دیکهئے چونکا دینے والا کالم .... حیرت اس بات پر ہے کہ یہ شخص اچانک سب سے بڑے صوبے کے نگران وزیر اعلیٰ بنتے ہیں ؛ کبهی بال اور بلا ہاتھ میں نہیں لیا ہے ؛ مگر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور پهر پاکستان سپر لیگ کے چیئرمین بهی بن جاتے ہیں ...
=======================
محترمہ سیدہ میمنت حسین اور ان کے شوہر۔
پہلے محترمہ کا کچھ تعارف اور پھر ان کے شوہر پر مختصر نظر۔

( تحریر محمد عبدہ )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دائرے میں نظر آنے والی خاتون کا نام سیدہ میمنت حسین ہے۔ محترمہ کی لاہور مال روڈ پر ریگل چوک کے پاس ایک انگریزی کتابوں کی بہت بڑی دوکان ہوتی ہے۔ جس میں ایک پبلشرز ادارہ بھی ہے۔ اس کا نام وینگارڈ بکس Vanguard Books ہے۔ (اب یہ وہاں سے کسی اور جگہ منتقل ہوچکا ہے)۔ اس ادارہ کی خاص بات یہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی اسلام ، نبی اکرم ص کے خلاف یا پاکستان کے خلاف کوئی کتاب شائع ہو اور وہ کہیں سے نا ملے۔ آپ وینگارڈ بکس سے خرید سکتے ہیں۔ اور اگر دستیاب نا ہوتو آرڈر کریں یہ آپ کو منگوا دیں گے۔ گستاخ رسول سلمان رشدی ہو یا تسلیمہ نسرین کی کتابیں جب پورے پاکستان میں بین تھیں۔ سیدہ میمنت حسین کی وینگارڈ بکس سے باآسانی مل جاتی تھیں۔ تہمینہ درانی کی متنازعہ کتاب My fuddle Lords بھی 1991 میں اسی ادارے نے شائع کی تھی۔

1999 میں سیدہ میمنت حسین کے شوہر نے حکومت کی کرپشن پر کچھ کالم لکھے اور بھارت کے اندر تقریر کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔ اس وقت بھارت میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر اشرف قاضی نے حکومت پاکستان کو ان کی تقریر بھیجتے ہوئے پاکستان مخاف قرار دیا اس کے نتیجے میں ان پر غداری کا مقدمہ دائر ہوا جیل میں بند کر دئیے گئے۔ کہ انہوں نے بھارت میں پاکستان دشمن تقریریں کی ہیں۔ محترمہ نے پوری دنیا کو خط لکھے۔ اقوام متحدہ ، امریکہ ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ورلڈ بنک سے مدد کی درخواست کی۔ اسلام آباد میں امریکی سفیر نے نواز شریف سے خصوصی ملاقات میں اس کے شوہر کو بازیاب کرنے کا کہا۔ ورلڈ بنک کے صدر جیمز نے خصوصی فون کئے۔ اور ایک ماہ بعد ان کے شوہر واپس گھر آگئے۔

اس سے پہلے جب 1996 میں صدر لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کو کرپشن کے الزام میں برطرف کرنے کے بعد عام انتخابات کرائے۔ معراج خالد کونگران وزیر اعظم مقرر کیا تو محترمہ کے شوہر ان کی کابینہ میں احتساب کے وزیر بنے۔ نواز شریف کے دور میں بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے الزام میں جو مقدمات قایم ہوئے وہ دراصل ان کے شوہر کے دور میں تیار ہوئے تھے. 1996 میں ہی ان کی مدد واعانت سے بی بی سی نے بے نظیر بھٹو اور آ صف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے الزامات کے بارہ میں پرنسیس اینڈ پلے بوائے کے نام سے ایک ڈاکومنٹری تیار کی تھی۔

اس سے بھی کچھ پہلے 1984 میں محترمہ کے شوہر نے ایک کتاب اپنے اخبار میں شائع کی۔ یہ کتاب کیمونسٹ، سوشلسٹ اور نیشنلسٹ نظریات کے مطابق لکھی گئی جس وجہ سے ضیاء الحق حکومت نے ان کو جیل میں ڈال دیا لیکن کچھ عرصہ بعد رہا کر دئیے گئے۔ اس سے بھی بہت پہلے کی بات ہے۔ 1973 میں لندن میں کریم بلوچ نے آزاد بلوچستان کے نام سے ایک تحریک چلائی۔ کیمونسٹ نظریات کے حامل ’’لندن کلب‘‘ کے پانچ نوجوان بلوچستان لبریشن فرنٹ کی مسلح جدوجہد میں حصہ لینے کےلیے خفیہ طور پر بلوچستان آئے۔ ان میں ایک احمد رشید ، پاکستان فضایہ کے ایک اعلی افسرکے بیٹے دلیپ داس ، جسٹس رحمان کے دو بیٹے راشد رحمان ، اسد رحمان اور محترمہ کے شوہر شامل تھے۔ ان میں سے کوئی بھی بلوچستان کا رہنے والا نہیں تھا بلکہ پانچوں پنجابی تھے۔ کھوج لگانے پر پتہ چلا کہ ’ لندن کلب‘ کے یہ پانچوں نوجوان ایک سال تک بلوچستان کے پہاڑوں میں رہے جہاں انہیں تربیت دی گئی۔ بلوچی سکھائی گئی اور وضع قطع بلوچوں ایسی بنائی گئی۔ جہاں یہ پانچوں پاک فوج کے خلاف گوریلا جنگ لڑتے رہے۔ دلیپ داس سندھ کی سرحد کے قریب سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔ سیدہ میمنت کے شوہر کو 1975 میں ذوالفقار علی بھٹو نے غداری کے الزام میں گرفتار کرکے دوسرے بلوچ علیحدگی پسندون کے ساتھ حیدرآباد جیل میں قید کردیا۔ 1978 میں جنرل ضیاء کی طرف سے عام معافی کے تحت ان تمام بلوچ رہنماوں کی رہائی کے ساتھ ان کو بھی رہا کردیا گیا۔

اب آتے ہیں اصل کہانی پر۔ محترمہ میمنت حسین اپنے اصل نام کی بجائے جگنو محسن کے نام سے مشہور ہیں۔ اور ان کی اصل وجہ شہرت ان کے یہ مشہور ترین اور متنازعہ ترین شوہر ہیں جن کا نام نجم سیٹھی ہے۔ یہ نجم سیٹھی صاحب ہی ہیں جن کی بھارتی نژاد چڑیا ممبئی اور دہلی کا دانہ چگتی اور نظریہ پاکستان کے مقدس اوراق پر گستاخانہ چونچیں مارتی رہتی ہے۔ کبھی ان کے بارے جنگ گروپ کے شاہین صہبائی کی طرف سے یورپ میں تین ملین ڈالرز کا بنگلہ خریدنے کا سکینڈل سامنے آتا ہے۔ اور کبھی یہ طلعت حسین جیسے صحافیوں کی طرف سے بے نقاب ہونے کے بعد اچانک روپوش ہو کر بدیسی آقاؤں سے تازہ ہدایات لینے ولائیت پہنچ جاتے ہیں۔ حال ہی میں ” قومی شناخت بمقابلہ مذہبی شناخت ” کے عنوان سے ان کا ایک کالم نظر سے گذرا۔ کالم کیا تھا حسب معمول حضرت قائد اعظم اور نظریہ پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی سے بھری ان کی سابقہ زہر آلودہ تحریروں کا ہی اک تسلسل اور ہندوآتہ کی طرف سے تفویض کردہ مقدس فریضہ مہا بھارتی کا پیشہ ورانہ شاہکار تھا۔ کالم پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ سیٹھی صاحب میں مجیب الرحمن، مہاتما گاندھی اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کی روح حلوت کر چکی ہے۔

February 12, 2016

بت ہم کو کہیں کافر، اللہ کی مرضی ہے

بت ہم کو کہیں کافر، اللہ کی مرضی ہے

محمد حسین کھرل

(26 جنوری کا کالم روزنامہ اوصاف، ہماری ویب اور دنیا پاکستان پر)
شنید ہے کہ تاجکستان کی حکومت نے داڑھیوں کے خلاف آپریشن کلین اپ شروع کر رکھا ہے. کاش ایسی کوئی خبر میرے ملک میں بھی سننے میں آئے.داڑھیاں اور حجاب ہی نہیں، دوپٹے بھی نوچ لئے جائیں، تاکہ حسن بے حجاب پھرا کرے. "تہذیب نو" سرعام اٹھکھیلیاں کرتی ہو. مذہب پر پابندی لگے، الحاد کا دور دورہ ہو اور زبان پر نام خدا لینا جرم ٹھہرے. نام تو جمہوریت کا ہی ہو، مگر جمہور کی مرضی سے نہیں. بلکہ ہماری "روشن فکر" کے مطابق قوانین تشکیل پائیں. کیونکہ فرسودہ خیالات کے حامل جمہور کیا جانیں تہذیب جدید کے تقاضے؟
جی ہاں شخصی، مذہبی اور اظہار رائے کی آزادی کی حسرت میں چھپے یہی وہ ارمان ہیں جو میرے لبرلز برادران وطن کے من میں مچلتے رہتے ہیں. اور روگ کی صورت آئے دن انہیں اندر ہی اندر سے گھائل کئے جارہے ہیں. جبھی تو ان کے ہاں اس قدر چڑچڑا پن در آیا ہے، کہ وطن عزیز پر جب بھی کوئی افتاد ٹوٹے، ان کے نزدیک اس کے ذمہ داران علمائے دین اور اہل مذہب ہوں گے
قلب و جگر ہی نہیں روح تک چھلنی ہے
راجن پور کی رانی کے ساتھ جو بیتی، اس کا صدمہ ہر اس شخص کو ہوا جس کے اپنے آنگن میں ننھی 'رانیوں' سے رونق ہےـ نوٹس، نوٹس کھیلنے کے عادی حکمرانوں نے اگر چند ایسے درندوں کو نشانہ عبرت بنایا ہوتا تو راجن پور کی رانی کی ماں کو یہ دکھ نہ جھیلنا پڑتا. دل حساس ابھی اس دکھ سے سنبھل نہ پایا تھا کہ کارخانو مارکیٹ پشاور کے دھماکے میں شہید ہونے والوں کا صدمہ ان کا منتظر تھا، مگر ہمارے قومی روح و رواں کی یہ چھید ان درندوں کی ہوس کی آسودگی کیلئے کافی نہ ہوئی۔ ابھی ان شہداء کی تدفین کر کے پلٹے ہی تھے کہ گھات لگائے درندوں نے ہمیں چارسدہ یونیورسٹی میں آن دبوچا. اور کبھی نہ بھرنے والا ایک اور گھاؤ ہمارے قومی وجود پر لگا گئے.
جب ان درندوں کے خلاف پوری قوم سراپا وحدت ہے کہ سب کے قلب و جگر یکساں چھلنی ہیں، ایسے میں بھی میرے لبرلز برادران وطن اپنے مشن میں جتے ہوے ہیں. جیسے فکری انتشار باور کرانا مقصود ہو.
حسبِ معمول ان کی صفوں سے سوال اٹھا ہے کہ پاکستان بھر سے کسی ایک عالم دین کا نام بتائیے. جس نے الفاظ چبائے، چونکہ، چنانچہ اور اگر مگر کئے بغیر اپنے پورے قد سے کھڑے ہو کر دہشت گردوں کو دہشت گرد کہا ہو؟ جب بغض و عناد تجاہل عارفانہ پر مجبور کر دے. تو13, 14, 15 اپریل2010 کو جامعہ اشرفیہ لاہور میں منعقد ہونے والا پورے دیوبندی مکتب فکر کا اجلاس اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والا متفقہ فتوی. جس میں وطن عزیز میں مسلح جدوجہد کو حرام قرار دیا گیا تھا نظر نہیں آتا. یہ طوطا چشمی تو خود کش حملوں کو حرام قرار دینے کی پاداش میں شہید ہونے والے مفتی اعظم مفتی حسن جان اور مفتی سرفراز نعیمی کی شہادت کو بھی نظروں سے اوجھل کر دیتی ہے.
اگر میرے ان لبرلز برادران وطن کی طبع نازک پر گراں نہ گزرے تو ان سے سوال کرنے کی جسارت کروں گا کہ اپنی صفوں سے کوئی ایک مولانا معراج الدین شہید پیش کر سکتے ہو؟ جنہوں نے فاٹا کے شورش زدہ علاقہ میں پورے قد کے ساتھ کھڑے ہو کر آئین کی بالادستی اور جمہوری جدوجہد کی بات کی. اور اس کی پاداش میں جام شہادت نوش کیا. یا وانا کے مولانا نور محمد شہید جیسا؟ جنہوں نے بغیر لگی لپٹی رکھے ان دہشت گردوں کو مجاہد ماننے سے انکار کیا. یا لکی مروت سے تعلق رکھنے والے مولانا محسن شاہ شہید جیسا؟ جنہوں نے بہ بانگ دہل اس درندگی کو درندگی کہا.

جن کی اپنی گرہ میں اس عفریت کے خلاف عملی جدوجہد کرنے والا کوئی ایک ہیرا بھی نہ ہو. اور ان کے پلے صرف باتیں ہی باتیں ہوں. انہیں زیب نہیں دیتا کہ وہ ان علمائے دین پر تنقید کریں جنہوں نے بے سروسامانی اور 'دو طرفہ' عدم تحفظ کے ماحول میں حق گوئی کا علم بلند رکھا ہوا ہے.اکبر الہ آبادی مرحوم یاد آ گئے

سورج میں لگے دھبہ فطرت کے کرشمے ہیں
بت ہم کو کہیں کافر، اللہ کی مرضی ہے
وفاق المدارس سے لے کر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی، مفتی محمد تقی عثمانی، جامعہ بنوری ٹاؤن کے مہتمم ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر اور دینی سیاسی جماعتوں تک کون ہے جس نے اس دہشت گردی کی مذمت نہیں کی؟ چاہیے تو یہ تھا کہ علمائے دین کے اس موقف کو اجاگر کیا جاتا. تاکہ دشمن کو پیغام ملتا، کہ آؤ دیکھو اہل علم کا وزن کس پلڑے میں ہے اور وہ کس کے ساتھ کھڑے ہیں. لیکن بجائے علمائے دین کا موقف اجاگر کرنے کے بیک جنبش قلم ان کے کردار پر ہی سوال کھڑے کر دینا. جبکہ دشمن اپنا مقدمہ پہلے ہی خود ساختہ دینی بنیادوں پر پیش کر رہا ہو. کیا دشمن کے موقف کو تقویت پہنچانے کے مترادف نہیں؟

جب قوموں کو حوادث کا سامنا ہو تو اس کا راستہ وہ خود آگے بڑھ کر روکا کرتی ہیں. مصیبت کے وقت تقسیم ہو جانے والوں کو تاریخ بھی اپنے اوراق میں جگہ نہیں دیتی. قوموں کی خطائیں قدرت معاف نہیں کیا کرتی. جب پوری قوم حکومت کی پشت پر کھڑی ہو اور حکومت قوم پر سایہ فگن. تب جا کر مصائب کا رخ پھیرنا ممکن ہو پاتا ہے.
اس کیلئے عوام و حکومت کے درمیان اعتماد باہمی لازم ہے. کیونکہ اعتماد باہمی ہی قوم سازی کی خشت اول ہوتی ہے. لیکن آہ...! کیسا المیہ ہے کہ ایک قوم بننا تو دور کی بات. شاید ہم تو ابھی قوم سازی کی نیو ہی نہ اٹھا پائے.
رویوں کا تضاد تو ملاحظہ کیجئے ایک طرف شکایت ہے کہ علمائے دین اس گمراہی کے خلاف کھڑے نہیں ہوتے اور دوسری طرف اگر علمائے کرام آئین کی بالادستی کی بات کرتے ہوئے جمہوری جدوجہد میں شریک ہو کر مسلح جدوجہد کی عملاً نفی کرنا چاہیں تو ان لبرلز کو تھیوکریسی نظر آنے لگتی ہے.
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

انسانیت کے قاتل انسانیت کے مرنے کی منظر کشی کررہے ہیں ----

انسانیت کے قاتل انسانیت کے مرنے کی منظر کشی کررہے ہیں ----
افریقہ کے صحرا میں ایک صحافی کیمرا لئے تصویر بنا رہا تھا اس کی تصویر میڈیا پر آتے ہی زلزلہ برپا کردیتی ہے
تصویر دیکھ کر بہت سی آنکھوں سے آنسو بہے مغرب کو انسانیت کا علمبردار کہا گیا کہ مغرب کا ایک صحافی اتنے دور تپتے صحراء میں اس بچے تک پہنچتا ہے جو کمزوری اور نحیفی کے سبب چلنے سے معذور ہے اور اس کے پیچھے بیٹھا گدھ اس انتظار میں ہے کہ کب اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کرے اور گدھ کی غذاء کا سامان ہو، منظر تبدیل ہوتا ہے
جگہ وہی ہے افریقہ ایک انگریز ٹیٹوز زدہ عورت ہاتھ میں پانی کی بوتل پکڑے ایک نحیف اور انتہائی کمزور بچے کو پانی پلا رہی ہے، پل ہی پل میں پورے میڈیا پر اس انگریز خاتون کے چاچے مامے بھتیجے بھائی جاگ جاتے ہیں اور صرف وہی نہیں جاگتے بلکہ ان کے اندر کی انسانیت بھی تڑپ اٹھتی ہے،
دنیا بھر سے موم بتی مافیا، سول سوسائٹی کے نمائندے جاگ اٹھتے ہیں ہاتھوں میں شمعیں پکڑے ؟ میڈیا پر بیٹھے ریٹنگ ریٹنگ کا گیم کھیلتے میڈیائی ناگ بلند آوازوں سے انسانیت کا درس دینے لگ جاتے ہیں ؟
لیکن کسی نے سوال نہیں پوچھا کہ آخر انسانیت کو اس مقام تک پہنچایا کس نے ہے؟
انسانی حقوق کی باتیں کرنے والوں نے کبھی یہ سوال نہیں کیا کہ وہ کونسی طاقتیں تھیں جنہوں نے مشرق وسطی سے لیکر افریقہ تک کے ساحلوں کو بدامنی ، غربت ، کے اندھیرے سائے میں ڈبو دیا ہے،
وہ کون تھے جنہوں نے پرامن دنیا کو جلا کر آگ کا ڈھیر بنا دیا، وہ کون سی طاقتیں تھیں جنہوں نے اپنے امن کی خاطر نصف سے زیادہ دنیا کو آگ میں جھونک دیا ؟؟ جنہوں نے اپنی قوت و طاقت کے بل پر کئی خطوں کو بھوک افلاس کی دلدل میں دھکیل دیا؟؟؟
ظلم کرتے چلے جاؤ؟ انسانیت کو قتل کرتے چلے جاؤ؟ دنیا کے امن و امان کو تہس نہس کرکے رکھ دو؟ اور جب انسانیت بِلکتی ہوئی سِسکتی ہوئی اپنے گھٹنوں پر گھسٹتی ہوئی کچرے کے ڈھیر پر آگرے تو آپ کو انسانیت یاد آ جائے
خود قتل بھی کرتے چلے جاؤ اور کرامات بھی کرتے چلے جاؤ
کیا ان خود نمائی کے شوقین انگریزوں کے مامے اور بھتیجے بتا سکتے ہیں کہ مذہب سے پہلے انسانیت کی کیا اہمیت تھی،
کیا مذہب سے پہلے وہ انسانیت تھی کہ معمولی سی بات پر پورے پورے خاندان کو قتل کردیا جاتا تھا؟ اور صدیوں تک جنگ جاتی رہتی تھی؟؟
کیا وہ انسانیت تھی کہ بیٹی کو زندہ درگور کردیا جاتا؟
کیا وہ انسانیت تھی کہ جب انسان لباس سے عاری تھا؟ شرم و حیاء سے کوسوں دور تھا؟
اور پھر مذہب نے انسان کو کیا اہمیت دی؟؟؟؟
اس پانی پلانے والی تصویر کو دیکھنے والو ذرا 1400 سال پہلے کا وہ منظر بھی دیکھ لو جب صحابہ کرام رضوان اللہ آخری سانس لیتے ہوئے بھی اپنے بھائی کو پانی پلانے کی تمنا کررہے تھے،------انسانیت کو انسیت اور محبت کی جلا بخشنے والا مذہب ہے،---رب کا خوف انسانیت کا احترام پیدا کرتا ہے۔ ---زمین پر سجدہ کرنا انسان کو اس کی اصل پہچان بتاتا ہے،---
وہ کون تھا جس نے دنیا میں سب سے پہلے مزدور کے ہاتھوں کو چوم کر انسانیت کو عزت بخشی --- ﷺ
وہ کون تھا جس نے دشمن کی بیٹی کے سر پر دوپٹہ رکھ کر انسانیت کو عزت و احترام کا بلند مقام عطا کیا، ﷺ
وہ کون تھا جس کو پتھر مارے گئے- جس کے سر پر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دی گئی؟-- جس کا بائیکاٹ کیا گیا ؟ --جس کو اپنے شہر سے ہجرت پر مجبور کردیا گیا-- جس کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے؟ --لیکن پھر بھی وہ کانٹے بچھانے والی کی عیادت کو چلا آیا ﷺ ----لیکن پھر بھی اس نے اپنا بدلہ کسی سے نہ لیا؟ ---وہ میرے اور آپ کے نبی ﷺ تھے جنہوں نے بنی نوع انسان کو انسانیت کا شعور عطا کیا،
اگر آپ انسانیت کو مذہب سے جدا سمجھتے ہیں تو بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا ہوگا --کیونکہ جہلاء مکہ کی نزدیک بیٹی کی پیدائش غیرانسانی عمل تھا اس کو زندہ درگور کردینا انسانیت کا معیار تصور کیا جاتا تھا- انسانیت انسانیت کا راگ الاپنے والے موسمی دانشوروں سے صرف اتنی گزارش ہے کہ جناب
جو مذہب آپ کو انسانیت نہ سکھا سکے وہ اسلام نہیں ہوسکتا
اور جو انسانیت آپ کو رب کا سچا مذہب نہ بتلا سکے وہ انسانیت نہیں ہوسکتی
"خان"

انسانیت کے قاتل کون

 وہ کونسی طاقتیں تھیں جنہوں نے مشرق وسطی سے لیکر افریقہ تک کے ساحلوں کو بدامنی ، غربت ، کے اندھیرے سائے میں ڈبو دیا ہے، وہ کون تھے جنہوں نے پرامن دنیا کو جلا کا آگ کا ڈھیر بنا دیا، وہ کون سی طاقتیں تھیں جنہوں نے اپنے امن کی خاطر نصف سے زیادہ دنیا کو آگ میں جھونک دیا ؟؟ جنہوں نے اپنی قوت و طاقت کے بل پر کئی خطوں کو بھوک افلاس کی دلدل میں دھکیل دیا؟؟؟ ظلم کرتے چلے جاؤ؟ انسانیت کو قتل کرتے چلے جاؤ؟ دنیا کے امن و امان کو تہس نہس کرکے رکھ دو؟ اور جب انسانیت بِلکتی ہوئی سِسکتی ہوئی اپنے گھٹنوں پر گھسٹتی ہوئی کچرے کے ڈھیر پر آگرے تو آپ کو انسانیت یاد آ جائے خود قتل بھی کرتے چلے جاؤ اور کرامات بھی کرتے چلے جاؤ کیا ان خود نمائی کے شوقین انگریزوں کے مامے اور بھتیجے بتا سکتے ہیں کہ مذہب سے پہلے انسانیت کی کیا اہمیت تھی، کیا مذہب سے پہلے وہ انسانیت تھی کہ معمولی سی بات پر پورے پورے خاندان کو قتل کردیا جاتا تھا؟ اور صدیوں تک جنگ جاتی رہتی تھی؟؟ کیا وہ انسانیت تھی کہ بیٹی کو زندہ درگور کردیا جاتا؟ کیا وہ انسانیت تھی کہ جب انسان لباس سے عاری تھا؟ شرم و حیاء سے کوسوں دور تھا؟ کیا وہ انسانیت تھی جسے آپ لوگ پتھر کا دور کہتے نہیں تھکتے؟ اور پھر مذہب نے انسان کو کیا اہمیت دی؟؟؟؟ اس پانی پلانے والی تصویر کو دیکھنے والو ذرا 1400 سال پہلے کا وہ منظر بھی دیکھ لو جب صحابہ کرام رضوان اللہ آخری سانس لیتے ہوئے بھی اپنے بھائی کو پانی پلانے کی تمنا کررہے تھے،—

”یہ کھلاڑی پاکستان کرکٹ کا مستقبل ہے“شین واٹسن نے صاف صاف بتا دیا


شین واٹسن نے رومان رئیس کو پاکستان کا مستقبل قرار دیدیا ، رومان رئیس صلاحیتوں سے مالا مال اور بہترین باؤلر ہیں ، شین واٹسن،رومان رئیس اب تک کھیلے گئے میچوں میں شاندار رہے ہیں،ٹی ٹوئنٹی کو بہتر سمجھتے ہیں ، دباوٴ سے اپنے آپ کو کیسے نکالنا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہے، انٹرویو۔



شارجہ( 13فروری۔2016ء) عالمی شہرت یافتہ آسٹریلین آل راوٴنڈر شین واٹسن نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے منتخب ہونے والے نوجوان پاکستانی فاسٹ باوٴلر رومان رئیس کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صلاحیتوں سے مالا مال اور بہترین باوٴلر ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا مستقبل ہیں ۔رومان رئیس پی ایس ایل میں شین واٹسن کے ساتھ اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے کھیل رہے ہیں جبکہ انھیں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اور ایشیا کپ کے لیے پاکستانی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔
شین واٹسن نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ہماری ٹیم میں بائیں ہاتھ سے فاسٹ باوٴلنگ کرنے والے رومان رئیس اب تک کھیلے گئے کچھ میچوں میں شاندار رہے ہیں، وہ باصلاحیت اور نوجوان ہیں اور وہ اپنے کھیل کے حوالے سے بہتر سمجھ رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کہ رومان رئیس گیم اور ٹی ٹوئنٹی کو بہتر سمجھتے ہیں جبکہ دباوٴ سے اپنے آپ کو کیسے نکالنا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہے، وہ واحد کھلاڑی تھے جو میرے ساتھ کھڑے رہے اور جتنے میچز کھیلے ہیں ان میں وہ متاثر کن کارکردگی دکھائی۔
رومان رئیس نے 40 ڈومیسٹک میچوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ پی ایس ایل میں اب تک انھوں نے 5.88 کی شاندار اوسط سے باوٴلنگ کی ہے۔شین واٹسن نے پی ایس ایل کی تعریف کی اور اسے پاکستان کرکٹ کے لیے سود مند قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل پاکستان کرکٹ کے لیے شاندار چیز ہے، نوجوان کھلاڑیوں کو حوصلہ دینے کے لیے ورلڈ کلاس کھلاڑیوں کے خلاف کھیلنا پاکستان کرکٹ کی ترقی کے لیے بہترین چیز ہو گی ۔

جمعیت علمائے اسلام کے رہنماء اور ضلعی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مولانا عبید الرحمان

ڈیرہ اسما عیل خان(محمد فضل الرحمان) جمعیت علمائے اسلام کے رہنماء اور ضلعی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مولانا عبید الرحمان نے کہا ہے کہ غیر سنجیدہ عناصر کے ہاتھوں ڈیرہ اسما عیل خان کی ضلعی حکومت یر غمال ہے ، جس طرح صوبائی حکومت کے معاملات غیر سنیجدہ لوگوں کے ہاتھوں میں چلے جانے کے باعث عوام مسائل کا شکار ہیں اسی طرح ڈیرہ اسما عیل خان میں بھی ضلعی حکومت عوامی مسائل کے حل میں غیر سنجیدگی کی وجہ سے ناکامی سے دوچار ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے صحافیوںسے گفتگو کے دوران کیا، انہوں نے کہا کہ ہم مثبت اور تنقید برائے اصلاح کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں، ضلعی حکومت نے ضلع ڈیرہ اسما عیل خان کا بجٹ قوائد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے منظور کرنے کاا علان کیا جو درست نہیں، اگر ضلع کونسل میں قوائد کے مطابق بجٹ پیش کیا جاتا اور اس پر تین دن بحث کی جاتی، اپوزیشن کی مثبت تجاویز کا خیر مقدم کیا جاتا اور ہمیں اعتماد میں لیا جاتا تو ہم بجٹ کی منظوری میں تعاون کرتے مگر ضلعی حکومت کی نیت درست نہیں تھی، بجٹ میں عوامی فنڈز کو زاتی مقاصد کے لیئے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، یہ بتایا جائے کہ ضلع ڈیرہ اسما عیل خان میں کون ساہیلی کاپٹر ہے جس کے فیول کی مد میں خطیر رقم کی منظوری ضلعی بجٹ میں حاصل کی گئی، جب بھی گورنر یا وزیر اعلیٰ کسی ضلع جاتے ہیں تو وزیر اعلیٰ اور گورنر سیکریٹریٹ کی جانب سے مذکورہ ضلعی حکومت کو ہیلی کاپٹر کے فیول کی ادائیگی کردی جاتی ہے تو پھر ضلعی بجٹ میں ہیلی کاپٹر کے فیول کی رقم کی لینا کہاں کا انصاف ہے، انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام جس طرح صوبے کی ترقی کے اہم منصوبے پاک چین اقتصادی راہداری کے معاملہ پر صوبائی حکومت کے ساتھ متحد ہو کر آواز بلند کر سکتی ہے وہیں ہم ڈیرہ اسما عیل خان کی ترقی کے لیئے ضلعی حکومت کا بھی بھرپور ساتھ دینے کا جذبہ رکھتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ ضلعی حکومت حقیقی معنوں میں عوامی خدمت اور ترقی پر گامزن ہو، البتہ عوام کا نام لیکر کرپشن کے معاملات میں ہم ضلعی حکومت کا بھرپور راستہ روکیں گے، انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا مولانا فضل الرحمان کی کوششوں سے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر کام کا حکومت نے باقائدہ اعلان کردیا ہے یہ روٹ اس خطہ کی تقدیر بدل دے گا، انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے ثابت کیا ہے کہ دورس اثرات کے حامل منصوبوں کو اس خطہ میں سے گذارانے سے یہاں کے عوام صدیوں اس کے ثمرات سے مستفید ہوں گی ، انہو ں نے کہا کہ انشاء اللہ اگلے ماہ میں اس مغربی روٹ کا باقائدہ افتتاح بھی کردیا جائے گا، ایک سوال کے جواب میں مولانا عبید الرحمان نے کہا کہ ڈیرہ اسما عیل خان میں ہزاروں ایکڑ اراضی کی سیرابی کے لیئے نئی گریوٹی کینال کی تجویز پر بھی کام شروع ہے اور مغربی روٹ کے افتتاح کے بعد اس اہم منصوبے پر مولانا فضل الرحمان اس خطہ کے باسیوں کو خوشخبری سنائیں گے، انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسما عیل خان ائیر پورٹ کی توسیع اور اس کی بحالی کے حوالے سے بھی معاملات میں پیش رفت جاری ہے جس کے مثالی نتائج جلد سامنے آجائیں گے

دلکش نظر آنے والی5حسینائوں کے اصلی چہرے ،ذرا دل تھام کردیکھیں

ممبئی(قدرت روزنامہ12فروری2016) بالی ووڈ حسینائیں اپنے حسن کے جلوے بڑی اسکرین پر بکھیرنے کے بعد فلم بینوں کو جہاں متاثر کرتی ہیں اگر انہیں عام زندگی میں دیکھ لیا جائے تو شاید فلم بین فلمیں دیکھنا ہی چھوڑ دیں۔
بڑے پردے پرحسن کے جلوے بکھیرنے والی بالی ووڈ حسیناؤں کو اگر کوئی حقیققی زندگی میں دیکھ لے تو شاید وہ حیران اورپریشان ہوکرہی رہ جائے اور ہم آپ کو بتارہے ہیں اُن 5 حسیناؤں کے بارے میں جن کے حسن کے چرچے  زبان زدعام ہیں لیکن حقیقت میں وہ قابل قبول صورت بھی نہیں دکھتیں۔

دپیکا پڈوکون:
بالی ووڈ حسینہ دپیکا پڈوکون گزشتہ 2 سال سے 10 خوبصورت ترین اداکاراؤں کی فہرست میں نمبرون ہیں، اپنی آنکھوں، ہونٹوں اور چہرے کے نقوش سے دل کو بھانے والی خوبرو اداکارہ کی ہر آنے والی فلم بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑھ رہی ہے لیکن یہ خوبصورتی صرف بڑے پردے کی حد تک ہی محدود ہےاور میک اپ کے بغیر موصوفہ کو دیکھا جائے تو گمان ہوتا ہے کہ اداکارہ نے توے سے کشتی کرنے کی کوشش کی ہے یہی نہیں اداکارہ کی آنکھوں کے گرد پڑے گہرے سیاہ  حلقے بھی ان کی بناوٹی خوبصورتی کا جنازہ نکال دیتے ہیں۔

کرینہ کپور:
بالی ووڈ کی 2015 کی سب سے مہنگی اداکارہ کرینہ کپور بھی اسکرین پر جلوے بکھیریں تو فلم بینوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں اور اپنی پٹ پٹ چلتی زبان سے جہاں وہ شائقین کو متاثر کرتی ہیں وہیں ان کے حسن کے چرچے بھی عام ہیں، 10 خوبصورت ترین اداکاراؤں میں دوسرا نمبر رکھنے والی کرینہ کی ادکاری پر تو کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا البتہ ان کے حسن پر سوالیہ نشان ضرور اٹھ سکتے ہیں اور میک اپ کے بغیر اداکارہ کا حسن اس حد تک ہے کہ وہ بازار میں بغیر میک اپ خریداری کے لئے نکلیں تو شائد دکاندار بھی انہیں نہ پہچان پائیں۔

کترینہ کیف:
بالی ووڈ کی باربی ڈول کترینہ جو کہ عام طور پر کیٹی کے نام سے جانی جاتی ہیں وہ بھی ظاہری خوبصورتی کے اعتبار سے فلم انڈسٹری میں اپنا الگ مقام رکھتی ہیں اور گزشتہ سال ہی انہیں خوبصورت ترین اداکاراؤں میں چوتھے نمبر پر رکھا گیا تھا۔ اداکارہ کی حقیقی شکل و صورت پر بات کی جائے تو کیٹ کے چہرے پر پڑنے والی جھریوں سے لگتا ہے کہ انہیں آئندہ فلم میں بڑی بی کا کردار دیا جائے گا لیکن چہرے پر میک اپ چڑھتے ہی انہیں مرکزی کردار دینا شاید مجبوری بن جاتا ہے۔

پریانکا چوپڑا :
33 سالہ اداکارہ پریانکا چوپڑا اپنے بولڈ کرداروں کی وجہ سے بالی ووڈ فلم انڈسٹری میں نمایاں مقام رکھتی ہیں اور اپنے حسن اور بولڈ کردار کے مکسچر کی وجہ سے اتنی مقبول ہوئیں کہ 2013 کی مہنگی ترین اداکارہ ثابت ہوئیں۔ چمکتی آنکھیں دمکتے ہونٹ اوررخصاروں کی لالی فلموں میں پریانکا کو پرکشش بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن پس پردہ یہی چمکتی آنکھیں پھٹی ، دمکتے ہونٹ بھدے اور رخصاروں کی لالی گویا تامل ہیروئن کی کالک میں ڈھل جاتی ہیں۔

انوشکا شرما:
فلم ’’رب نے بنا دی جوڑی‘‘ سے بالی ووڈ فلم انڈسٹری میں انٹری مارنے والی اداکارہ انوشکا شرما بھی نہ صرف صف اول کی اداکاراؤں میں شامل ہیں بلکہ سب سے زیادہ معاوضہ حاصل کرنے والی دسویں اداکارہ بھی ہیں۔ پرکشش انداز کے ساتھ متاثر کن نقوش انوشکا شرما کو اسکرین پر نمایاں کرتے ہیں لیکن اداکارہ نے خود کو مزید پرکشش بنانے کے لئے ہونٹوں کی سرجری کرائی جس سے ان کی خوبصورتی تو نکھر کر سامنے آئی لیکن میک اپ کے بغیر ان کی یہی خوبصورتی نظروں پر بھاری گزرتی ہے۔

"وہ ایک مرد کوہ گراں"

اُس پر اعتراض کئے گئے۔۔۔۔۔اُسے گالیاں دی گئیں۔۔۔۔۔اُس کی پگڑی کا مذاق بنایا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔اُس پر آوازے کسے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔اُسے مطلب پرست سیاستدان کہا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔کسی نے اُس کی پالیسیوں کی جہاد سے متصادم قرار دیا۔۔۔۔۔۔۔۔ اُس پر چار سے زیادہ جان لیوا حملے ہوئے لیکن وہ اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُس کے گھر پر راکٹوں کی برسات ہوئی لیکن وہ ملک چھوڑ کر نہیں بھاگا۔۔۔۔۔۔۔۔ اُس نے ہمیشہ اپنے اکابر کے مشن کی لاج رکھی۔۔۔۔۔۔ اپنوں نے اُس کے خلاف لمبی لمبی تقریریں کی ۔۔۔۔۔۔کتابیں لکھیں ۔۔۔۔۔لیکن اُس نے ان چیزوں پر دھیان نہیں دیا۔۔۔۔۔۔۔ جو اُس کی جان کے دشمن بنے ہوئے تھے اُس نے ان کو بھی سینے سے لگایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے یاد ہے وہ لمحہ جب کراچی کے ایک مشہور معروف عالم نے ڈیڑھ گھنٹہ سے زیادہ صرف اُس کی کردار کشی پر تقریر کی اُس کی قربانیوں پر پردہ ڈال کر اُسے مفاد پرست ثابت کرنے پر لگا رہا حقائق سے برعکس وہ تقریر اُس نے بھی سنی تھی ۔۔۔۔۔لیکن مسکردا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کچھ بھی نہ کہا۔۔۔۔۔ پھر وقت نے دیکھا کہ وہی عالم جب ایجنسیوں کے نرغے میں آیا اور اس پر کراچی کی زمین تنگ کی جانے لگی چاروں طرف سے خطرات میں گھرا یہ عالم جب حجاز مقدس میں ۔۔۔۔۔۔ اُس کے سامنے آیا۔۔۔۔۔۔۔ تو وہ مسکرانے لگا اور کہا میں نے آپ کی وہ تقریر سنی تھی ۔۔۔۔۔ لیکن شاید وہ میری اصلاح کے لیے تھی۔۔۔۔۔۔بتاؤ کیسے آنا ہوا۔۔۔۔۔۔ ایجنسیوں نے جینا حرام کردیا ہے۔۔۔۔۔۔ کراچی بہت وسیع۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس کی زمین مجھ پر تنگ کردی گئی۔۔۔۔۔۔ جاؤ آج کے بعد کوئی تمہیں کچھ نہیں کہے گا۔۔۔۔۔۔ وہ عالم آگیا وہ آج بھی کراچی میں ہے۔۔۔۔۔۔ علماء آئے وفود آئے حضرت ہمارے جامعہ کی زمین پر سرکار نے دعویٰ کردیا ہے کہتے ہیں کہ گرادیا جائے گا۔۔۔۔۔۔ وہ مرد قلندر اٹھا اس جامعہ کے سامنے اس مسجد کے سامنے کھڑا ہو گیا ایوان اقتدار کےمیں بیٹھے ہوئوں کو کہا کہ یہ جامعہ بھی یہیں رہے گا یہ مسجد بھی یہیں رہے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چشم فلک نے وہ نظارہ دیکھا وہ جامعہ آج بھی وہیں ہے وہ مسجد آج بھی وہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے کہا گیا کہ لال مسجد کو کھلوا دو جامعہ حفصہ بحال کروا دو وہ میدان میں کود پڑا اس نے حکومت سے معاہدہ کروا کر دونوں کو بحال کروادیا ۔۔۔۔۔۔ اس کی کردار کشی کی گئی کہ ہر حکومت کا حصہ ہوتا ہے لیکن اس نے اپنی ذات پر مسجد اور مدرسہ کو فوقیت دی وہ تمام اعتراضات جو اس کی ذات پر کیے گیے جو کیچڑ اچھالا گیا اس نے ان کو جواب کے قابل نہ سمجھا۔۔۔۔۔ اسمبلی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ آواز آئی کہ ناموس رسالت قانون بدل دیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ آواز آئی ہی تھی کہ اسمبلی اُس کی آواز سے لرز اٹھی ۔۔۔۔۔۔ کراچی کے درو دیوار نے دیکھا کہ ایک شخص دیوانہ وار کہ رہا تھا کہ اسمبلی میں بیٹھے یورپ و مغرب کے غلاموں اگر تم نے پوپ بینی ڈکٹ سے معاہدہ کیا ہے کہ اس قانون کو تبدیل کردوگے ۔۔۔۔۔تو سن لو میں نے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عہد کیا ہے کہ جب تک جسم میں جان ہے اس قانون کو تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔۔۔۔۔۔ اس آواز نے قانون ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کی آوازوں کو دبا کرکے رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔ ختم نبوت کے قانون کا مسئلہ آیا تو اُس نے جرآت و بہادری کی وہ مثالیں قائم کیں کہ اکابرین ختم نبوت داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد بن قاسم پر آوازیں اٹھیں ۔۔۔۔۔راجہ داہر کو ہیرو بنانے کی کوششیں کی جانے لگیں ۔۔۔۔۔۔ تب بھی وہ سامنے آیا اور ببانگ دہل کہا کہ میرے اکابر کے خلاف بھونکنے والی زبانیں کاٹ دی جائیں گی۔۔۔۔۔۔۔ پاکستانی کی اسلامی شناخت کو بچانے کا مسئلہ ہو یا عورت کو مادر پدر آزاد بنانے کی سازشیں
مدارس پر پابندیوں کا مسئلہ ہو یا علماء کو جیل سے رہائی دلوانے کا مسئلہ
مساجد پر بے بنیاد چھاپے ہوں یا مدارس کے نصاب کا معاملہ
وہ ہر محاذ پر ڈٹا رہا
اُس نے اسلام کا پرچم اٹھائے رکھا
اُس نے اکابر کا سر فخر سے بلند کیے رکھا
اُس نے دیوبند کے فرزندوں کے سروں کو جھکنے نہیں دیا
اُس نے یورپ کی پارلیمنٹ میں بھی اسلامی پیغام کو بخوبی و احسن طریقہ سے پہنچایا
وہ افغانستان سے لیکر چیچنیا تک
بوسنیا سے لیکر برما تک
کشمیر سے لیکر بنگلہ دیش تک ہر محاذ پر اسلام اور مسلمان کی بات کرتا رہا
لیکن افسوس اُن نگاہوں پر جو اپنا محسن نہیں پہچان سکیں
صد افسوس اُن پر جو میڈیا کے بے بنیاد پروپیگنڈوں کا شکار ہو کر اُس پر جھوٹے اور من گھڑت الزامات لگاتے رہے
آخر یہ ہے کون
جاننا چاہتے ہو؟؟؟؟؟؟
پہچاننا چاہتے ہو؟؟؟؟؟
تو آؤ اپنی نگاہوں کو بند کرو
اور ذرا تصور کی نگاہوں سے دیکھو کہ
لاہور کا شہر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جامعہ اشرفیہ کا وسیع ہال ہے۔۔۔۔۔۔۔ علماء کا ایک سمندر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر طرف نورانی چہروں کی بہار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علم و عمل کے کوہ گراں موجود ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہیں ایک نوجوان عالم سید عدنان کاکا خیل ۔۔۔۔۔اپنے خوبصورت انداز میں کہ رہا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اے قائد محترم اسلام پاکستان اور مدارس کے لیے آپ کی جتنی خدمات ہیں ان کا پانچ فیصد بھی یہ قوم نہیں جانتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کو آپ کا تصور دکھائے گا
کہ عمامہ جبرائیلی پہنے ایک شخص وہاں بیٹھا ہے جس پر تمام علماء کی نگاہیں جمی ہوئی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ جی ہاں یہ ہے وہ جسے ابن مفتی محمود کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے وہ جسے قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن کہا جاتا ہے۔
"خان"

February 11, 2016

مولانا فضل الرحمن کا مقدمہ.......

مولانا فضل الرحمن کا مقدمہ
(خورشید احمد ندیم)
۔۔۔۔۔
مکتبِ دیوبند پر،دہشت گردی اور مسلکی انتہاپسندی کی جو افتاد آ پڑی تھی،وہ اس میں بہہ گیا ہو تا اگر اس کی باگ مو لا نا فضل الرحمن جیسے زیرک آ دمی کے ہاتھ میں نہ ہو تی۔وہ دیوبند کے سفینے کویلغار اور تنقید کی تیز وتند سونامی سے بچا لے گئے۔
اس سے انکار محال ہے کہ آج پاکستان میں جو سیاسی اور مسلکی انتہا پسندی ہے، اس کے مؤسیسین کا تعلق اسی مکتب سے تھا۔متحدہ ہندوستان میں تکفیر کی پہلی صدا تو ایک دوسرے مکتب کے ایوانوں سے ابھری لیکن پاکستان میں یہ امتیاز اہلِ دیوبند کے حصے میں آیا۔اس پہ مستزاد طالبان، جن کی شناخت یہی مسلک تھا۔اس کے نتیجے میں ریاست اور سماج جن المیوں سے گزرے،اس کابار بھی اسی مسلک پر ڈالا گیا۔آج تک اس کی صدائے باز گشت ہمیں سنائی دیتی ہے۔مو لا نا فضل الرحمن نے اس رجحان کے سامنے بند باندھا۔ ایک تو انہوں نے اسے اپنے مکتب میں پھیلنے نہیںدیا۔دوسرا انہوں نے اس تعبیرِ دین کی اعلانیہ مخالفت کی جو عسکری جدو جہد سے تبدیلی کی قائل ہے۔یہ آسان کام نہیں تھا۔کم ازکم دودفعہ ان پرحملہ ہوا۔زندگی اور موت چونکہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اس لیے وہ محفوظ رہے ورنہ انسانی کوشش میں تو کچھ کمی نہ تھی۔
چند دن پہلے، مجھے اِس مو ضوع پر ان کے خیالات بالتفصیل جاننے کا موقع ملا۔بعض ایسی باتیں بھی جو میں نے پہلے نہیں سنی تھیں۔خطیبِ بے بدل سید عبدالمجید صاحب ندیم کی یاد میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔ان کے بیٹے جانتے ہیں کہ مجھے مر حوم سے تعلقِ خاطر تھا۔اسی رشتے کے احترام میں انہوں نے مجھے بھی مدعو کیا۔شاہ صاحب کے ہونہارفرزندفیصل ندیم صاحب کافون آیا تومعلوم ہوا کہ مو لانا بھی تشریف لائیں گے۔جانا تو مجھے ویسے بھی تھا لیکن اس سے اشتیاق بڑھ گیا۔اس موقع پرمولا نا نے جو تقریر کی،وہ ان کے موقف کی جامع ترجمانی تھی۔میں چاہتا ہو ں کہ اُن کا یہ مقدمہ آپ کے سامنے بھی آئے۔یہ بات پیش ِنظر رہنی چاہیے کہ ان کے مخاطبین کی اکثریت، علما اور دینی مدارس کے متعلقین و طلبا تھے۔ اس میں جمعیت علمائے اسلام کے ذمہ دار بھی شامل تھے۔میں ان کے اس مقدمے کو نکات کی صورت میں بیان کر رہا ہوں۔
٭ دین اصلاً دعوت کا نام ہے۔ایک داعی کیے لیے لازم ہے کہ وہ شائستہ،حکیم اور متوازن مزاج ہو۔دعوت کے آداب قرآن مجید نے بیان کیے ہیں اور رسالت مآب ﷺ نے بھی سکھائے ہیں۔داعی کبھی جذباتی نہیں ہوتا۔ وہ گالی کے جواب میں کبھی گالی نہیں دیتا۔وہ گالی سن کر بھی اپنے غصے پر قابو رکھتا ہے۔اس کا معاملہ تو قرآن مجید نے بیان کیا ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھوں مرتا ہے، ان کے لیے نجات اور جنت کی خواہش کوپسِ مرگ بھی مر نے نہیں دیتا۔
٭ امن آج ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے۔چند سال پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت آدم سے ٹیلی فون پر ہم کلام ہوں۔انہوں نے پوچھا: کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا:امن چاہتا ہوں۔فرمایا: تو پھر انتظار کرو۔میں نے کہا: یہی تو کرر ہے ہیں۔خواب میں آ دمی کی روح بولتی ہے۔امن ہماری روح کی آواز ہے۔
٭ امن ہی انسانی سماج کی فطری حالت ہے۔جنگ غیر فطری ہے،اس لیے اس کی تمنا نہیں کر نی چاہیے۔جو لوگ دورِ حاضر میں (جب مسلمان کمزور ہیں) جہاد کی خواہش رکھتے ہیں یاشہادت کی آرزو کرتے ہیں،وہ دین کی روح سے واقف نہیں۔رسالت مآبﷺ نے اللہ سے ہمیشہ عافیت کی دعا کی۔اپنے چچا حضرت عباس ؓکو اس کی تلقین فرمائی: دنیا اور اخرت میں عافیت۔ایک معرکے سے واپسی پر اپنے صحابہ کو یہی نصیحت کی کہ دشمن سے مدبھیڑ کی کبھی خواہش نہ کرو۔ہاں اگر جنگ سر پڑ جائے تو پھر بزدلی کا مظاہرہ نہ کرو۔پھر ایک مجاہد کی شان سے نکلنا چاہیے۔( اس صورت میں ظاہر کہ جہاد سب سے بڑی نیکی ہے اور شہادت سب سے بڑی سعادت۔)
٭ جنگ ہمیشہ تیاری کے ساتھ ہونی چاہیے۔محض جذبات سے جنگ نہیں لڑی جاتی۔یہ دشمن ہے جو ہمیں اشتعال دلا تاہے۔جو لوگ بغیر تیاری کے لڑتے ہیں وہ دشمن کی چال کا شکار ہوتے ہیں اور یوں مسلمانوں کو مزیدکمزور کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
٭ ہم کبھی جدید علم کے مخالف نہیں رہے۔ہمارے اکابر میں کوئی ایک مثال ایسی نہیں کہ کسی نے مسلمانوں کو اس سے منع کیا ہو۔ہم جدید علم کو بھی ضروری سمجھتے ہیں۔تاہم اس کے ساتھ دینی تعلیم بھی ضروری ہے۔دینی مدارس معاشرے کی اس کمی کو پورا کرر ہے ہیں۔ہم آپ کی افادیت اور ضرورت کے قائل ہیں تو آپ ہماری ضرورت اور افادیت کے منکر کیوں ہیں؟اگر کسی جدید تعلیمی ادارے پر افتاد پڑتی ہے تو ہم سب سے پہلے پہنچتے ہیں۔اپنا خون دیتے ہیں اور دوسروں کے دکھ میں شریک ہوتے ہیں۔افسوس یہ ہے کہ ہمارے بچے مرتے ہیں تو مجھے اکیلے رونا پڑتا ہے۔آٹھ دس سال کے معصوم ڈرون حملوں سے گوشت کے لوتھڑوں میں بدل جاتے ہیں۔ان کو رونے والا کوئی نہیں ہوتا۔شکایت آپ کو ہم سے نہیں، ہمیں آپ سے ہونی چاہیے۔
٭ ہم ملک کے آئین کو مانتے ہیں۔ ہم اقوامِ متحدہ کے چارٹر کو مانتے ہیں۔ہم جنیوا کنونشنز کو مانتے ہیں۔ہم تو ان میں سے کسی کا انکار نہیں کرتے۔پھر ہمیں انتہا پسند کیوں کہا جا تا ہے؟چند لوگ اگر انتہا پسند ہیں تو ان کا وبال ہم سب پر کیوں؟پہاڑوں پر بیٹھے بندوق بردار دین کے نمائندے نہیں ہیں۔دین کے نمائندے تو وہ علما اور مسلمان ہیں جو ہزاروں اورکروڑوں کی تعداد میں مو جود ہیں۔اسلام ان کے افکار اور طرزِ عمل کا نام ہے،چند انتہا پسندوں کے افکار کا نہیں۔
٭ دینی مدارس کے خلاف مہم اصلاً دین کے خلاف ہے۔امریکہ اور مغرب ان کی آڑ میں ہمارادینی تشخص ختم کرنا چاہتا ہے۔ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے اور اس کی مزاحمت کریں گے۔
مو لا نا کی یہی سوچ ہے جس نے مکتبِ دیوبند کو انتہا پسندی کی افتاد سے محفوط رکھا۔تاہم میرا احساس ہے کہ یہ سوچ ان کے عمومی پیغام میں منتقل نہیں ہوسکی۔یہ کام جمعیت علمائے اسلام کا ہے‘مکتبِ دیوبند کے وابستگان کا ہے۔ان کا ہے جو اس اجتماع میں شریک تھے اور انہوں نے مو لانا کی زبان سے یہ سب کچھ سنا۔اسی کو مدارس اور محراب و منبر سے بیان کیا جا نا چاہیے۔میرا مشاہدہ یہ ہے کہ مدارس سے ایسے جرائداور کتب شائع ہو رہے ہیں جو انتہا پسندانہ افکار کی نمائندگی کرتے ہیں۔اختلافِ رائے کی بنیاد پر تکفیر کا عمل جاری ہے۔ یہ رویہ مو لانا فضل الرحمن کے عمومی پیغام سے متصادم ہے۔اگر اس حوالے سے وہ داخلی احتساب کا کوئی عمل شروع کر سکیں تو یہ ان کے مدرسۂ فکر کے لیے خیر کا باعث ہو گا اور سماج کے لیے بھی۔
مو لا نا فضل الرحمن کے لیے اس ملک میں حرفِ خیرکہنا آسان نہیں۔ان کے گردسکینڈلوںیک ایسا جال بُن دیا گیا ہے جو ان کی اصل شخصیت تک رسائی میں مانع ہے۔بہت سی نظریں اسی میں الجھ کر رہ جا تی ہیں۔میرے نزدیک یہ معاملات اکثر گمان سے تعلق رکھتے ہیں۔جہاں معاملہ یقین کے بجائے گمان کا ہو،وہاں میرے دین کی تعلیم یہ ہے کہ حسنِ ظن ہی کو ترجیح دینی چاہیے۔حکمت ِعملی البتہ ایک کھلا میدان ہے جس کا تعلق کسی کی بصیرت اوردانائی سے ہے۔اس پر کلام کیا جا سکتا ہے۔مو لانا فضل الرحمن سیاست دان ہونے کے ساتھ ایک دینی تشخص رکھنے والے گروہ کے نمائندہ بھی ہیں۔گروہ بھی وہ جس کی طرف مذہبی انتہاپسندی کا انتساب کیا جا تا ہے۔اس پس منظر میں مو لانا کی یہ باتیں غورو فکر کی.دعوت دیتی ہیں۔

February 9, 2016

تربیتی طیارے کے حادثے میں شہید ہونے والے پائلٹ میجر اظہر سے متعلق ایسی بات کا انکشاف جسے جان کر آپ بھی آبدیدہ ہو جائیں گے...!!!


گوجرانوالہ (تازہ ترین۔09 فروری۔2016ء) پاک فوج کے تباہ ہونے والے تربیتی طیارے کے شہید پائلٹ میجر اظہر کی گیارہ روز بعد شادی ہونا طے پائی تھی اور شادی کے کارڈز بھی تقسیم ہو چکے تھے۔ نجی ٹی وی کے مطابق منگل کے روز پاک فوج کا تربیتی طیارہ تباہ ہونے سے شہید ہونے والے پائلٹ میجر اظہار کی 20 فروری کو شادی ہونا تھی اور بارات گوجرانوالہ سے لاہور جانا تھی شہید کے اہل خانہ دلہے کی چھٹی پر گھر آنے کے انتظار مین تھے لیکن شاہد خدا کو منطور نہ تھا اور میجر اظہر کی شہادت کے بعد ان کی نعش گھر پہنچی تو کہرام مچ گیا میجر اظہر کی شادی کے کارڈ بھی تقسیم ہوچکے تھے۔

سرکار کی طرف سے آج روزنامہ ایکسپریس میں دیا گیا اشتہار

سرکار کی طرف سے آج روزنامہ ایکسپریس میں دیا گیا اشتہار
اشتہار میں لکھی گئی باتوں سے ہمیں تو کوئی اختلاف نہیں___ لیکن بنائی گئی تصاویر سے اختلاف کرنا بہت ضروری سمجھتا ہوں___ تصویر میں دکھائے گئے لوگ سب پٹھانوں اور خصوصاً وزیرستان کے لباس میں ملبوس ہیں___ نکتہ اعتراض یہ ہے کہ کیا صرف پٹھان ہی دہشت گرد ہیں؟ اگر تصاویر دینا ضروری تھیں تو نقاب پوش بھی یہ کام سرانجام دے سکتے تھے___ کیا ضروری ہے کہ آپ ایک محب الوطن قوم کو یوں دہشت گردی سے نتھی کر رہے ہو؟ قوم بھی وہی جس نے سب سے زیادہ لاشیں اٹھائیں____
یہ انتہائی دکھ اور افسوس کی بات ہے___ آخر سرکار پختونوں کو کیا پیغام دینا چاہتا ہے؟ ایک طرف تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور قوم نہیں ہوتا تو دوسری طرف آپ دہشت گردوں کے حلیے پختون جیسے بنا رہے ہو___ آخر کیوں؟؟؟
سکول کی جو تصویر ہے اس میں خواتین پشتونوں کے برقعہ میں ملبوس ہیں___ جب کہ آخر میں جس خاتون نے بچہ اٹھایا ہے وہ پختون کے لباس میں نہیں.___ اس کا تو یہی مطلب بنتا ہے کہ پختون دھماکے کرتے ہیں ہم لاشیں اٹھاتیں ہیں

February 3, 2016

پیپلز پارٹی پر بجلی گر گئی، اہم رکن اسمبلی نے عزیر بلوچ سے متعلق تہلکہ خیز اعتراف کر لیا...!!!

کراچی (تازہ ترین۔03 فروری۔2016ء) سندھ اسمبلی میں بدھ کو کراچی ایئرپورٹ کے واقعہ پر قرار داد مذمت پر بحث کے دوران ڈپٹی اسپیکر سیدہ شہلا رضا اور ایم کیو ایم کے رکن محمد حسین خان میں زبردست تلخ کلامی ہوئی ۔ ڈپٹی اسپیکر نے محمد حسین خان کا مائیک بند کرادیا ، جس پر ایم کیو ایم کے ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر زبردست احتجاج کیا ۔
یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی ، جب محمد حسین خان نے قرار داد پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ادوار حکومت میں ماضی میں بھی پرامن احتجاج کرنے والوں پر تشدد کی کارروائیاں کی گئیں ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی سرپرستی کی گئی ۔ ایک دہشت گرد کے ساتھ وزیر اعلیٰ سندھ ، کئی وزراء اور ڈپٹی اسپیکر کی تصویریں ہیں ۔ سیدہ شہلا رضا نے کہا کہ ہم عوامی لوگ ہیں ۔ ہماری تصویریں سب کے ساتھ ہوتی ہیں ۔ لوگوں کی تو ویڈیوز موجود ہیں ، جن میں انہیں جرائم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔ میری تصویر عزیر بلوچ کے ساتھ ہے ، جو کرنا ہے کر لیں ۔ میری تصویر اجمل پہاڑی ، جاوید بندہ اور شجاعت ہاشمی کے ساتھ نہیں ہے ، جنہوں نے مجھے دھمکیاں دی تھیں ۔ ان کے نام جی ایچ کیو سے آئے تھے اور مجھے بتایا گیا تھا کہ مجھے ان سے خطرہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے ملازمین کی جانیں چلی گئی ہیں اور ان سے ہمدردی کی بجائے دوسری باتیں کی جا رہی ہیں ۔ یہ جلسہ نہیں ، جس میں بھڑاس نکالی جائے ۔ محمد حسین اس دوران بولتے رہے ۔ شہلا رضا نے کہا کہ آپ کا مائیک نہیں کھلے گا ۔ آپ ہاتھ نیچے کر کے بات کریں ۔ آپ کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے ۔ سکون کی دوا لیں ۔ ڈرامہ بہت ہو گیا ۔ اب یہ نہیں چلے گا ۔ جنہوں نے مجھے دھمکیاں دیں ، وہ مارے گئے ۔ ماحول کو خراب کرنا ایک سازش ہے تاکہ قرار داد منظور نہ ہو ۔ ایم کیوا یم کے ارکان مائیک بند کرنے کے خلاف احتجاج کرتے رہے اور ایوان میں زبردست شور شرابا رہا ۔ ایوان کا ماحول دوسری مرتبہ اس وقت خراب ہوا ، جب مسلم لیگ (ن) کی خاتون رکن سورٹھ تھیبو نے کہا کہ تھر کے مسئلے پر بات کرنے کی بجائے یہ قرار داد پیش کی گئی ہے ۔ کیا تھر کے بچے سندھ کے بچے نہیں ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے ارکان نے احتجاج کیا اور کہا کہ تقریر کو قرار داد تک محدود رکھا جائے ۔ ایوان کا ماحول تیسری مرتبہ اس وقت کشیدہ ہو گیا ، جب ایم کیو ایم کی خاتون رکن ارم عظیم فاروق نے کہا کہ نعرہ یہ لگایا جاتا ہے کہ بھٹو زندہ ہے ۔ کہاں ہے بھٹو ۔ اس پر بھی پیپلز پارٹی کے ارکان نے احتجاج کیا ۔ اسپیکر نے ارم عظیم فاروق سے کہا کہ لیڈر شپ کے بارے میں کوئی ریمارکس نہ دیئے جائیں ۔ اسپیکر نے ارم عظیم فاروق کے ریمارکس حذف کرا دیئے ۔

پڑهنے والوں کے لیے،،،،،،،، کون عزیز بلوچ ؟؟؟

پڑهنے والوں کے لیے،،،،،،،، کون عزیز بلوچ ؟؟؟
وہ تمام سیاستداں اور ارکانِ اسمبلی جو عزیر بلوچ کو سردار صاحب کہتے تھے ، زندگی بھر وفادار رہنے کا حلف اٹھا چکے یا مرغن دعوتوں کا نمک چکھ چکے ہیں، وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ،،،،،،،، کون عزیر بلوچ ؟
ارے آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔وہ کوئی اور اویس مظفر ٹپی ہوگا ۔ فریال نام کی تو سینکڑوں خواتین ہیں اکیلا میرا نام فریال تھوڑا ہے ۔نہیں نہیں قائم علی شاہ کو اتنی فرصت کہاں کہ عزیر جیسا جرائم پیشہ ان سے مل سکے۔ آج کل تو کوئی بھی انگلا کنگلا سستی شہرت کے لیے فوٹو شاپ کر سکتا ہے۔آپ کہیں تو میں عزیر بلوچ کو اوباما کے ساتھ دکھا دوں۔
ہم سیاسی لوگ ہیں ہمارا بھلا کسی گینگسٹر سے کیا لینا دینا۔ اگر پیپلز امن کمیٹی ہم نے بنائی ہوتی تو ہم ہی اسے کیوں کالعدم قرار دیتے؟ ذوالفقار مرزا آج بھی عزیر بلوچ کو بھائی کہتا ہے تو کہتا رہے۔ مرزا سے پوچھیں کہ بطور وزیرِِ داخلہ اس نے اسلحے کے ہزاروں لائسنس کیوں جاری کیے۔ انہی حرکتوں پر تو مرزا کو پیپلز پارٹی سے نکالا گیا۔
وہ تمام باضمیر صحافی جو عزیر بلوچ کی دعوتِ افطار میں شرکت کے لیے ٹوٹے پڑتے تھے، وہ تمام اینکرز اور اینکرنیاں جو عزیر جان کو ٹاک شوز میں مدعو کرتے تھے آج طوطے کی طرح اس کی سفاکیوں کا پردہ فاش کر رہے ہیں۔
پیپلز امن کمیٹی دو ہزار آٹھ میں زرداری حکومت کے قیام کے بعد رحمان ڈکیت عرف سردار رحمان خان بلوچ کی سربراہی میں قائم ہوئی۔ جب رحمان ڈکیت نے سیاسی پر پرزے نکالنے شروع کیے تو نو اگست دو ہزار نو کو سٹیل ٹاؤن کے قریب پولیس مقابلے میں تین ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا۔
عجب صاف ستھرا پولیس مقابلہ تھا جس میں پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مرنے والوں کو تین فٹ دور سے گولیاں لگیں اور کوئی سپاہی زخمی نہیں ہوا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت بشمول نبیل گبول ایم این اے نے بدنامِ زمانہ رحمان ڈکیت کے صفائے کا خیر مقدم کیا کیونکہ رحمان ڈکیت نبیل گبول کی الیکشن کمپین کا کبھی انچارج نہیں رہا۔ نبیل نے کبھی رحمان کا گھر تک نہیں دیکھا ۔اس گھر میں پریس کانفرنس کرنا تو دور کی بات ہے۔
یہ رحمان ڈکیت دادل ( داد محمد ) کا بیٹا اور شیرو ( شیر محمد ) کا بھتیجا تھا۔شیرو دادل کی جوڑی ایوب خان کے مخالفین کے جلسے اکھاڑنے کے لیے مشہور تھی۔اس وقت لیاری ہارونوں اور گبولوں کی جاگیر تھا۔ پھر بھٹوؤں کا سیاسی فارم ہاؤس بنا۔گینکسٹرز نسل در نسل بدلتے رہے اور ان کی پیٹھ پر دھرے ہاتھ بھی۔
پچھلے دس برس میں گینگسٹرز نے ہی لیاری سنبھال لیا۔ ان گینگسٹرز نے یقینی بنایا کہ بلوچستان کا کوئی پاکستان دشمن لیاری کے گنجان انسانی جنگل میں پناہ نہ لینے پائے۔اس کے بدلے یہ گینگسٹرز لیاری کے ساتھ کچھ بھی کر سکتے تھے۔اور پھر دس مربع کلومیٹر میں پھیلے کراچی کے سب سے گنجان لیاری ٹاؤن میں دو ہزار کے لگ بھگ لوگ مرگئے۔
کراچی کی سیاست میں جرائم پیشہ مافیا کی جو کہانی انیس سو ساٹھ میں کالا ناگ اور شیرو دادل سے شروع ہوئی ۔آج اس کہانی کی تیسری پیڑھی چل رہی ہے۔لیاری کی غربت اور اس سے پیدا ہونے والے گینگسٹرز کل تک سیاسی اثاثہ تھے آج اسٹرٹیجک اثاثہ بھی ہیں۔ بے قابو ہوجائیں تو پھر سے نالی کا کیڑا بنا دئیے جائیں۔
عزیر بلوچ کی ماں نے کیا خوب کہا کہ ہماری زندگیاں بس اسی لیے ہیں کہ بناؤ، استعمال کرو، ختم کردو۔ تراشیدم ، پرستم ، شکستم کی اس سے بہتر تفسیر کیا ہوگی ؟
آخری خبر یہ آئی تھی عزیر بلوچ دبئی پولیس کی تحویل میں ہے۔ جانے کب رہا ہوا اور پھر پاکستان کیسے اور کیوں آ گیا؟ بیٹی کہتی ہے انٹرپول والے میرے سامنے دبئی ایئرپورٹ سے تیرہ ماہ پہلے اٹھا کے لے گئے۔ حکومتی ادارے کہتے ہیں انٹرپول کے ریڈ وارنٹ جاری ضرور ہوئے تھے مگر گرفتاری دو روز پہلے کراچی کے مضافات سے ہی ہوئی۔ اتفاق سے کوئی فوٹو گرافر بھی وہیں کہیں ٹہل رہا تھا جس نے پرسکون صاف ستھرے عزیر بلوچ کی ڈرامائی گرفتاری اطمینان سے عکس بند کی۔
مگر کہانی تو اب شروع ہوئی ہے۔آنے والے دنوں میں عزیر بلوچ مزید راز اگلے گا، بہت سے نام لے گا، ہو سکتا ہے سلطانی گواہ بھی ہو جائے اور جب ایک روز اس کا سینہ رازوں سے خالی ہو جائے گا تو پھر اس کا دل اکتا جائے گا اور ایک دن وہ فرار ہونے کی کوشش کرے گا اور اس کوشش میں مر جائے گا اور پھر کسی نئے عزیر بلوچ کی نئی فائل نئے کام کے لیے کھل جائے گی۔
ایل کپون ، حاجی مستان ، بھنڈرانوالہ ، ملک اسحاق ، رحمان ڈکیت ، عزیر بلوچ وغیرہ وغیرہ ۔ایسے سب مہرے انتہائی ضروری اور پھر غیر ضروری ہیں۔
وسعت اللہ خان بی بی سی اردو )

یہ اچانک کیا ہو گیا، شہباز شریف نے استعفا دینے کا اعلان کر دیا...!!!

لاہور (تازہ ترین۔03 فروری۔2016ء)وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ عدالت میں اورنج ٹرین منصوبے پر قانونی طریقے سے جنگ لڑیں گے ‘ اورنج ٹرین پر 100 فیصد قرض چین نے 20 سال کی آسان اقساط پر دیا ہے ‘ یہ منصوبہ سی پیک میں شامل کرنا چاہتے ہیں، دھرنو ں نے ملکی معیشت کا دھڑن تختہ کر دیا، چوہدری نثار میرے یار غار ہیں مجھے ان کے خلاف اکسانے کی کوششیں نہ کی جائیں،ب میں جب بھی امن و امان کا مسئلہ ہوا تو رینجرز کو بلایا ہے۔
میرے خلاف ثبوت لے آئیں میں مستعفی ہونے میں ایک سیکنڈ نہیں لگاؤں گا ۔ وہ بدھ کو نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دے رہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ اورنج ٹرین پر 100 فیصد قرض چین نے دیا ہے اور 20 سال کی آسان اقساط پر دیا ہے اگلے 7 سال تک کچھ بھی ادا نہیں کر نا اس کے بعد 2.5 فیصد سود پر 20 سال میں قرضہ واپس کیا جائیگا۔ شہباز شریف نے کہ اکہ عدالت میں اورنج ٹرین پر قانونی طریقے سے جنگ لڑیں گے اور یہ منصوبہ سی پیک میں شامل کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دھرنو ں نے ملکی معیشت کا دھڑن تختہ کر دیا ہے ۔ چوہدری نثار سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ چوہدری نثار میرے یار غار ہیں مجھے ان کے خلاف مت اکسائیں ‘ گزشتہ روز پی آئی اے احتجاج میں ہلاکتوں کے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انکوائری ہو رہی ہے۔ بہت جلد قاتلوں کا پتہ چل جائیگا۔ حکومت نے گولی چلانے کا کوئی حکم نہیں دیا تھا۔ اورنج ٹرین کیلئے اراضی وارگزار کروانے کیلئے پیسے پنجاب حکومت دے گی۔ میٹرو بس کو جنگلا بس کہنا عام آدمی کی توہین ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ میرے تینوں ادوار میں مجھ پر ایک روپے کی کرپشن بھی ثابت ہو جائے تو میں وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے کر سیاست کو ہمیشہ کیلئے خیر باد کہہ دوں گا۔ رینجرز کو کرپشن روکنے کیلئے نہیں بلایا جاتا۔ پنجاب میں جب بھی امن و امان کا مسئلہ ہوا تو رینجرز کو بلایا ہے۔ میرے خلاف ثبوت لے آئیں میں مستعفی ہونے میں ایک سیکنڈ نہیں لگاؤں گا۔ انہوں نے کہاکہ لاہور میٹرو کے بعد پنڈی اور اب ملتان میں میٹرو بن رہی ہے ۔ میرے لئے پورا پنجاب ایک جیسا ہے۔ پورے پنجاب میں صاف پانی کے 17 بلین کے پروجیکٹس لگ رہے ہیں۔ دیہی آبادی کے لئے بھی 150 ارب روپے کر رہے ہیں جس سے سڑکیں بنیں گی۔ بہاولپور میں فیڈرل یونیورسٹی بنائی جا رہی ہے۔ جنوبی کے لوگوں کے مجھے خاص محبت ہے کیونکہ ماضی میں اس حصے کو نظر انداز کیا گیا۔ شہباز شریف نے کہاکہ سیلاب کے دنوں میں دن رات سیلاب زدگان کی میں نے خود خدمت کی۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کو کنٹرول کرنے پوری کوشش کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیج پرہیں مگر ملک دشمنوں اور سیاسی یتیموں کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ایک شعر بھی سنایا۔ شب گزر جائے تو ظلمت کی شکایت بے سود …… درد تھم جائے تو اظہار تعزیت بے سود

ایم ایم اے کی مثالی حکومت - - اور میرٹ کی پاسداری

ایم ایم اے کی مثالی حکومت - - اور میرٹ کی پاسداری
ایم ایم اے حکومت کے دوران سابق چیف سیکرٹری عبداللہ صاحب چار سال تک پبلک سروس کمیشن کے چئیرمین رہے، میرٹ کا لحاظ کرنے اور اصول پسندی میں اپنی مثال آپ تھے، اس پورے دورانیے میں وہ ہر قسم کی سفارش اور سیاسی پریشر سے آزاد رہے- خادم اعلٰی پختونخواہ الحاج اکرم خان درانی کو لکھے گئے خط میں اس کا اعتراف بہت خوبصورت انداز میں کیا ہے، اقربا پروری، سفارش کلچر، سیاسی اثر و رسوخ سے پاک ایک مثالی حکومت کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوسکتا ہے کہ متحد مجلس عمل کی حکومت میں میرٹ کلچر کو کس حد تک فروغ دیا گیا تھا-
بشکریہ:- مولانا امان اللہ حقانی (سابق صوبائی وزیر اوقاف خیبر پختون خواہ)

February 2, 2016

وہی ہوا جس کا خدشہ تھا، اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کیخلاف بڑا حکم دے دیا گیا...!!!


لاہور (تازہ ترین۔02 فروری۔2016ء) لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے پر حکم امتناعی کے باوجود کام جاری رکھنے کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر ایل ڈی اے حکام کو اپنی نگرانی میں عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرانے کاحکم دیدیا۔گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس شاہد کریم پر مشتمل دو رکنی ڈویژن بینچ نے کیس کی سماعت شروع کی تو درخواست گزار امجد حسین بھٹی اورکپور تھلہ ہاوس کے دیگر رہا ئشی درخواست گزاروں کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ تاریخی عمارتوں کی دو سو فٹ حدود میں اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے پر کام روکنے کے عدالتی حکم کے باوجود پنجاب حکومت اس پر عملدرآمد نہیں کر رہی اس لیے عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور ہائیکورٹ کے حکم امتناعی پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
فاضل عدالت نے درخواست گزاروں کا موقف سننے کے بعد ایل ڈی اے حکام کو اپنی نگرانی میں عدالتی احکامات پرعملدرآمد کرانے کاحکم دیتے ہوئے فریقین کے وکلاء کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت چار فروری تک ملتوی کر دی۔

February 1, 2016

الطاف حسین اور لندن میں مقدمہ۔۔ایم کیو ایم نے ناقابل یقین دعویٰ کر دیا

کراچی ( تازہ ترین اخبار۔یکم فروری2016ء) ایم کیو ایم کی جانب سے دعوی کیا گیا ہے کہ الطاف حسین کو منی لانڈرنگ کیس میں پولیس اسٹیشن پیشی کی استثنی دے دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ لندن میں چل رہے منی لانڈرنگ کیس سلسلے میں اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے الطاف حسین کو پولیس اسٹیشن پیش ہونے سے منع کر دیا ہے۔
ایم کیو ایم کی جانب سے دعوی کیا گیا ہے کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے پاس الطاف حسین کیخلاف خاطر خواہ ثبوت نہیں ہیں اس لیے انہیں اب اس کیس میں پولیس اسٹیشن پیش ہونے سے استثنی دے دی گئی ہے۔ اس حوالے سے اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کے ترجمان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس کیس میں الطاف حسین اور دیگر پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے موجود شواہد ناکافی ہیں۔ اسی باعث انہیں پولیس اسٹیشن پیش ہونے سے روکا گیا ہے۔ اس کیس کی تحقیقات منطقی انجام تک پہنچنے تک جاری رہیں گی۔