October 1, 2016

ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم سلیم باجوہ کا لائن آف کنٹرول کا دورہ

 

را ولپنڈی ۔ڈ ی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ بھارت اپنے نقصان کیوں چھپا رہا ہے وطن عزیز کا دفاع پہلے بھی کیا اب بھی کریں گے ۔ تفصیلات کے مطابق ہفتہ کے روز ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے لائن آف کنٹرول پر صحافیوں کے ہمراہ دورہ کیا باغ کے علاقے’’ سر‘‘ کے مقام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کوئی بھول میں نہ رہے وطن عزیز کا دفاع پہلے بھی کیا اب بھی کریں گے ۔

سرجیکل اسٹرائیک کا بے بنیاد جھوٹ بولا گیا پاکستان کی خاطر جو بھی کرنا پڑا کریں گے انہوں نے کہا کہ ہم نے لائن آف کنٹرول پر بھارت کو بھرپور جواب دیا ۔ہمیں یقین ہے کہ بھارت کی جانب ضرور ہلاکتیں ہوئی بھارت اپنے نقصان کیوں چھپا رہا ہے انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی بھارتی فوجی راستہ بھول کر پاکستان آیا ہے تو یہ معاملہ بھی دیکھ رہے ہیں ۔

September 30, 2016

گرفتار بھارتی فوجی پاکستان کی حدود میں چوری چھپے کیاکام کر رہا تھا ؟

 
 
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کو ایل او سی پر بھارتی در اندازی کے بڑے اور واضح ثبوت مل گئے، تفصیل کے مطابق گزشتہ روز ایل او سی پر پاکستان کیخلاف کی جانیوالی بھارتی دراندازی کا بڑا واضح ثبوت پاکستان نے حاصل کر لیا۔پاک فوج کے جوانوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اورپاکستانی حدود میں گھسنے والے بھارتی فوج کے ایک جوان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ ذرائع کے مطابق بھارتی سپاہی چندو لال بابو 15 دیگر فوجیوں کے ساتھ نکیال سیکٹر سے دراندازی کررہا تھا۔پاک فوج کے ذرائع کے مطابق چندو بابو لال چوہان کا تعلق اکیاسی آرمر رجمنٹ سے ہے ۔واضھ رہے کہ گذشتہ روز بھارت اپنے فوجی کے پکڑے جانے پر روایتی انداز میں رونے لگ گیا تھا اور یہ مضحکہ خیز جواب پیش کر رہا تھا کہ پاکستان کی حراست میں موجود اہلکار غلطی سے پاکستان چلا گیا تھا۔ماہرین کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ ایل او سی پر سخت ترین سکیورٹی کے باوجود یہ کیسے ممکن ہے کہ سرحد پار سے کوئی فوجی یا کوئی بھی شخص غلطی سے سرحد پار کر کے دوسری طرف پہنچ جائے۔ تاہم ان سوالات پر بھارت مکمل طور پر خاموش ہے اور اپنی روایتی ہٹ دھرمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستانی حدود میں گھسنے والابھارتی فوجی کسی بڑے منصوبے کی تیاری کر رہا تھا۔

August 25, 2016

”افغان مہاجرین کی خدمت پاکستان نے کی۔۔ فائدہ بھارت اُٹھا گیا “


June 2, 2016

پاک چین اقتصادی راہداری کا صنعتی زون ڈیرہ اسمعیل خان میں ہی قائم ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن

چین پاک اقتصادی راہداری، صنعتی زون ڈیرہ اسما عیل خان میں قائم ہوگا، مولانا فضل الرحمان

لفٹ کینال، ٹانک زام، مارجنل بند، واپڈا سے متعلق مطالبات منظور ہو گئے ہیں ، وزیر اعظم دفتر سے ان منصوبوں پر کام کے ڈائریکٹیوز کا مرحلہ وار اجرا کیا جا رہا ہے، گیس توسیعی منصوبہ کی رقم متعلقہ محکمہ کو مل گئی ہے ، بھارہ منصوبہ پر کام شروع کیا جائے گا

پچاس کلومیٹر طویل صنعتی زون سے علاقہ کی تقدیر بدلے گی، گومل یونیورسٹی کو مثالی بنانے کی ہر کوشش کا میں ساتھ دونگا، اس دھرتی کے باصلاحیت اور تعلیم یافتہ لوگ منصوبے لائیں پیش رفت کے لیئے ہم کردار ادا کریں گے

میری دعا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات سے اس خطہ کے باسی مستفید ہوں، ہمارا علاقہ پسماندہ نہیں اسے دور افتادہ رکھا گیا، زرعی یونیورسٹی کا قیام یہاں کے زمینداروں اور ماہرین تعلیم کا دیرنہ مطالبہ تھا ، خدا کا شکر گذار ہوں جس نے ہماری کوششوں کو بارآور کیا

( بشکریہ فضل الرحمن بیورو چیف روزنامہ اوصاف ڈیرہ اسماعیل خان )

May 11, 2016

میرا سیدھا سادہ سوال

میرا سیدھا سادہ سوال ... ایک اہم ترین تحریر
===================
پختونخوا میں  تین سالوں سے  پاکستان تحریک انصاف   کی حکومت  ہے...  صوبائی احتساب کمیشن  ان کی ہے...  جس نے پیپلز پارٹی  ؛ عوامی نیشنل پارٹی  اور خود تحریک انصاف  کے ایک صوبائی وزیر کو گرفتار  کیا ہے ؛ جبکہ دیگر وزراء  کے  خلاف  کیس بن چکا ہے...  وفاقی نیب .بھی موجود  ہے  ؛ ایف آئی اے  بھی موجود  ہے ...  اس وقت  مسلم لیگ ن ؛ پیپلز پارٹی ؛ عوامی نیشنل پارٹی  ؛ تحریک انصاف  سمیت دسیوں  پارٹیوں  کے رہنماؤں  کے خلاف  کاروائی  بھی کررہی ہے۔

عمران خان  صاحب  جلسوں میں  تو مولانا فضل الرحمن صاحب  کے خلاف  خوب الزامات  لگارہے ہیں ؛ مگر  پختونخوا کی  صوبائی حکومت  ؛ صوبائی  احتساب  کمیشن ؛ نیب سمیت دیگر اداروں کو  مولانا فضل الرحمن  صاحب  ؛ ان کے بھایئوں ؛ جمیعت علماء اسلام  کی مرکزی  قیادت اور ممبران اسمبلی  کے خلاف ابھی تک ریفرنس بنا کر  کاروائی  کی توفیق کیوں  نہیں  کر رہی  ہے۔  ؟؟؟

عمران خان  اور تحریک انصاف  کی صوبائی  حکومت  سے  ہم درخواست  کرتے ہیں  کہ  ہمت کرلے....  مولانا فضل الرحمن صاحب  ؛ ان کے بھایئوں ؛ سابق وزیر اعلیٰ  اکرم خان درانی  اور جمیعت علماء اسلام  کی دیگر  صوبائی  قیات ؛ موجودہ  و سابقہ    ممبران اسمبلی  کے خلاف کیس بناکر کاروائی  شروع کردے...  ہم آپ کا ساتھ  دینگے

ورنہ ہم  یہی سمجھیں گے  کہ آپ صرف الزامات  در الزامات  لگاکر جھوٹ  بول رہے ہو... 

...روغانی...

May 7, 2016

One Muslim League N worker reply to Murad Saeed

ایک ن لیگی ورکر کا مراد سعید کو خوبصورت جواب۔

کل مراد سعید ایک ٹی وی پروگرام پہ کہہ رہا تھا کہ میں مولانا فضل الرحمن صاحب سے صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں اپ کے گھر کے دروازے سے پچھلے پندرہ سال سے ایک چادر لٹک رہی ہے وہ کیا ہے اور کس کی ہے ؟
میں اج بتاتا ہوں کہ مولانا صاحب کے دروازے سے لٹکتا ہوا چادر اور اس کی ہسٹری کیا ہے ؟
میں حلفیہ کہتا ہوں کہ میرا تعلق نہ جماعت علما اسلام سے ہے اور نہ کسی دیگر مذہبی جماعت سے لیکن میں اج جو لکھوں گا سچ لکھوں گا اور سچ کی سیوا کچھ نہیں لکھوں گا
ڈیرہ اسماعیل خان میں مولانا فضل الرحمان صاحب کی گھر کے دروازے سے جو چادر لٹک رہی ہے وہ ضرور ان کے والد گرامی مفتی محمود مرحوم کی دستار ہوگی لیکن اپ کو معلوم نہیں ہے کہ مراد سعید کی شلوار اج تک کدھر لٹک رہی ہے ؟
چلو میں بتاتا ہوں
مراد سعید صاحب وہ لوگ اچھے طرح سے جانتے ہیں جو دو ہزار چھ اور سات کے دوران جہانزیب کالج سوات میں پڑھتے تھے موصوف کا تعلق  سوات تحصیل کبل سے ہے ان کی گاوں کا نام ڈھیرئ ہے ۔بچپن سے کرکٹ کا شوقین تھا اور ایک اچھا پلیئر بھی ہے موصوف دو ہزار اٹھ میں چکدرہ لوئر دیر اکثر کرکٹ کھیلنے آتا تھا ادھر وہ رات کی لئے کسی لونڈے بازوں کیساتھ گزارتا تھا ایک دن لونڈے باز کے مخالف گروپ نے اس کو زبردستی دریائے سوات کے کنارے ایک جنگل نما جگہ لے کے گیا جدھر اج تک موصوف کی شلوار ایک انجیر کی درخت سے لٹک رہی ہے اس کے گواہ اج بھی چکدرہ کے تمام لوگ ہے ۔

May 5, 2016

یہ شخص مسخرہ ہے!!!!

Aziz Bin Aziz
یہ شخص مسخره ہے!
زیک گولڈ اسمته لندن کے میئر شپ کا الیکشن لڑ رہا ہے، ہمارے کپتان صاحب بذات خود ان کی الیکشن کمپیئن کے لیے اپنے دو "اے ٹی ایم" مشینوں کے ساتھ لندن جا کر وہاں مسلمانوں ووٹروں سے ملاقاتیں کی اور انہیں دعوت دی کہ وه (میرے سابق یہودی سالے ) زیک گولڈ اسمته کو کامیاب کریں،
ظاہر ہے کپتان یہودیوں عیسائیوں کو تو دعوت دینے سے رہا،،، اس لیے کہ غیر مسلموں کو زیک گولڈ اسمته خود اپنی دولت شہرت اور یہودی چالوں سے متاثر کر ہی لے گا،
واپسی پر جیو نیوز کے حامد میر نے کپتان سے پوچها کہ، ایک مسلمان امیدوار صادق خان (وه کتنا ہی بد عمل کیوں نہ ہو ) کے مقابلے میں آپ ایک یہودی زیک گولڈ اسمته کو سپورٹ کرنے لندن گئے، کیوں؟،،،،
کپتان کا جواب کچھ یوں تها،مختصراً یہ کہ،،،
میں صادق خان کو نہیں جانتا،
زیک(یہودی ) کو میں نے سیاست میں آنے کا کہا اور وه "ایماندار " امین "صادق "اور سچا ہے "،،،،،،!
(اسے کہتے ہیں پاور فل الفاظ کا سرٹیفیکیٹ ایک مسلمان کا اسرائیل نواز یہودی کے لیے )
آگے دیکهیں ہوا کیا،،،!
اس یہودی زیک گولڈ اسمته نے مخالف امیدوار جو کہ مسلمان ہے اس کا ووٹ بینک خراب کرنے کے لیے ایک کالم میں لکها کہ اگر،،،،، ( لندن کے ووٹرز نے ) صادق (مسلمان) کو کامیاب کرایا تو لندن جیسا مشہور شہر دہشت گردوں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا!،،،،
نفرت دیکهیں مسلمان سے، اور اس مسلمان سے جس کی نہ داڑھی نہ پگڑی نہ مدرسہ کا استاد نہ مسجد کا امام نہ کبهی زندگی میں اسلامی نظام کے لیے کوئی اس کا کردار ہے، بلکہ بہت ساری بداعمالیوں میں مبتلا ہوگا،لیکن نفرت،،،،
کپتان لندن کن کو کہنے گیا تها کہ (یہودی ) زیک گولڈ اسمته کو کامیاب کریں؟،،، ظاہر ہے مسلمانوں کو،،،
اور یہ یہودی زیک گولڈ اسمته نے کس کے جیتنے پر لندن شہر کو دہشتگردوں کہ ہاتھ چلے جانے کو کہا ؟،،،،
ظاہر ہے صادق خان ایک مسلمان کے جیتنے پر، ،،،!
کہنے والے ایک درویش نے بہت پہلے کہہ دیا تها کہ یہ یہودیوں کا ایجنٹ ہے، بس،، میرے کہنے سے کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا،
میرا تو بس ایک لطیفہ اور بات ختم،،،،،،
حامد میر ؛ عمران کوئی خوب ہنسنے والا لطیفہ سنا دو؟
عمران غصہ میں؛ دیکهیں حامد،،! میں ایک سیاست دان ہوں کوئی مسخره نہیں،،،،
حامد میر خوب ہنستے ہوئے؛،،، اچها تها،،،،، اسی طرح کا ایک اور سنا دو

May 1, 2016

ڈیرہ کا دشمن کون ؟

ثبوت مل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مفتی زاہد شاہ ڈیروی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزیراعظم نواز شریف طے شدہ شیڈول کے مطابق خیبر پختونخوا اور سندھ کے چنداضلاع کے دورے پر جارھے ھیں،جہاں وہ ترقیاتی پیکج ،بالخصوص چائنا پاک اقتصادی راھداری  کے حوالے سے اھم منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھ رھے ھیں۔گزشتہ روز مانسہرہ میں جلسہ عام کے بعد وزیر اعظم 3 مئی کو بنوں ،6 مئی کو سکھر ،10 مئی کو کوھاٹ اور 12 مئی کو ڈیرہ اسماعیل خان کا دورہ کریں گے جہاں وہ اجتماعات سے خطاب اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے۔۔۔۔۔دوسری جانب بے لگام صحافت کے  بیوپاری  ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک مقامی اخبار"ڈیرہ نیوز" کےمالکان  کے پیٹ میں "ڈیرہ دوستی"کے مروڑاٹھ رھے ھیں ،کیونکہ انہیں اپنے فنانسر وڈیروں کی امیدوں پر ایک بار پھر پانی پھرتا دکھائی دے رھا ھے۔یوں وہ وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان آمد سے قبل دورہ بنوں کو تنقیدکا نشانہ بناتے ھوئے اسے مولانا فضل الرحمن کی "ڈیرہ دشمنی " سے تعبیر کررھے ھیں،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر سے بے خبر ،کمال کی صحافت ھے یار،،،،،،،،، جب وزیر اعظم کے دورے کا شیڈول   مشتہر ھوچکا ھے،اس میں ڈیرہ اسماعیل خان بھی شامل ھےتو پھراس پر قبل ازوقت طوفان بدتمیزی کاآخرکیا جوازبنتاھے ،،، کیا رائے ھے احباب کی ،کہ  اسےتجاھل عارفانہ کا مصداق کہاجائے یا تعارف جاھلانہ کا شاھکار "؟

مولانا فضل الرحمن کی دوران معائنہ ویڈیو بنانے پر پمز ہسپتال کا ڈاکٹر معطل

اسلام آباد: مولانا فضل الرحمٰن کی دورانِ معائینہ ویڈیو بنانے پر پمز ہسپتال کا ڈاکٹر معطل
اتوار 1 مئی 2016    |    16:03

اسلام آباد:( تازہ ترین اخبار ۔1مئی 2016ء): جمیعتِ علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی ڈاکٹری معائینے کے دوران ویڈیو بنا کرسوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ڈاکٹر کو ہسپتال انتطامیہ نے معطل کر دیا ہے ۔اور ایک اسکے خلاف کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پیمز ہسپتال اسلام آباد کے ایک ڈاکٹر نے جمیعتِ علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان کے پمز میں کروائے گئے طبی معائنہ کی ایک ویڈیو کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیا تھا۔
جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بحث کا آغاز ہو گیا اور بیشتر لوگوں نے ڈاکٹر کے اس روئیے کو غیر اخلاقی قرار دیا۔ مذہبی حلقوں کی طرف سے ہسپتال انتطامیہ کو ڈاکٹر کے اس رویئے کے بارے میں شکایات موصول ہوئیں ہیں۔ پمز ہسپتال کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے پرو فیسر عابد فاروقی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔ جو ڈاکٹر کی طرف سے ویڈیو بنانے کے محرکات کا جائزہ لے گی۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کے پمز ہسپتال کو تین ہفتوں میں دوسری دفعہ خفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سے پہلے 9اپریل کو پمز کے ڈاکٹر کی طرف سے ا یک 29 سالہ لڑکی سے مبعینہ زیادتی کی شکایت سامنے آئے تھے.

جمیعت علماء اسلام اور مزدور کے حقوق

جــمــعــیــۃ عــلــمــاء اســلام اور مــزدور کــے حــقــوق
----------------
دین اسلام انسانیت كی فلاح و بہبود اور ترقی کا نظام ہے، تعلیمات اسلامیہ کا منشور فلاح انسانیت ، احترام آدمیت ، انسانی اقدار اور عزت نفس کا تحفظ ہے-
محسنِ انسانیت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہےکہ "مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے قبل اس كی اجرت ادا کردو-"

جمعیۃ علماء اسلام فلاح انسانیت کا منشور لے کر میدان عمل میں ہے، مزدور ہمارے ملک كی اساس ہیں، ہمیں اپنے ملک كی اساس مزدور کو جائز مقام دینا ہوگا-
جمعیۃ علماء اسلام کا واضح طور پر منشور ہیکہ "ہم زمین کے اوپر زمیندار کے جائز حق کو تسلیم کرتے ہیں لیکن تمہارا وہ مزارع جو تمہاری شراکت کےساتھ تمہاری زمینوں کو آباد کرتا ہے، شریعت اسلامیہ كی رو سے اسكی شراکت داری مسلَّمہ حق ہے، اسلئے ہم پورے ملک کے مزارعین کو یقین دہانی کرواتے ہیں کہ 'کسی بھی مزارع کو جبراً کوئی جاگیردار اور زمیندار زمین سے بےدخل نہیں کرسکے گا-'
جمعیۃ علماء اسلام اس بات پر یقین رکھتی ہےکہ اگر اس ملک کو حقیقی طور پر فلاحی ریاست بنانا ہے تو ہمیں مزدور کو اس کا مقام دلانا ہوگا، ہمیں تمام مزدور اور سرکاری ملازمین كی تنخواہوں اور ان كی اجرت میں تناسب پیدا کرنا ہے، ہم کسی بھی مزدور اور چھوٹے طبقے کے ملازمین کو کسی کا غلام نہیں بننے دینگے- کارخانہ دار کارخانے کا اگر جائز مالک ہے تو پھر مزدور بھی محنت میں اس کا شراکت دار ہے، ہم نے اس كی شراکت داری کو مستحکم کرنا ہے، اسلئے جمعیۃ علماء اسلام مزدور طبقہ کو باعزت زندگی و مرتبہ دینے کیلئے فلاح انسانیت کے علمبردار اسلام کے منشور كی روشنی میں حقوق مزدور کے تحفظ کیلئے کوشاں ہے، ہم مزدور یونین کو صنعتوں کے بورڈ آف گورنر سے پچاس فیصد کا حصہ دار بنانا چاہتے ہیں، کیونکہ کارخانہ دار کے کارخانوں كی چمنیوں سے جو دھوئیں نکل رہے ہیں وہ مزدور اور محنت کش ملازمین كی محنت و مشقت اور پسینہ كی بدولت ہیں، اور ایک محنت کش کا خون اور پسینہ مقدس ہے، محنت کش اللہ کا دوست ہے، اس کے پسینے پر قربان جائیں-
خدا كی قسم ایک جاگیردار و سرمایہ دار كی جاگیر اور قلعہ بند محلات كی قیمت ایک مزدور اور غریب کے پسینہ کے برابر نہیں ہوسکتی-

(قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمن حفظہ اللہ کے  29 مارچ 2013ء کی اسلام زندہ باد کانفرنس لاہور کے خطاب سے اقتباس)

مرتب# محمد سفیان بہاولپور

April 30, 2016

PTI Leader Jahangir Tareen finally admitted his offshore companies

لیڈروں کے اثاثے ملک میں ہونے چاہیئں
لیکن جہانگیرترین اور علیم خان مستثنٰی ہیں کیونکہ وہ لیڈر نہیں ہیں فنانسرز ہیں
ہنڑ کرو دفاع خودمختار اولاد دا
ہنٹر تہاڈے پیو دے اصلی بچیاں دی آف شور کمپنی نکل آئی آ

April 28, 2016

اسلام آباد : جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پمز اسپتال منتقل

اسلام آباد : جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پمز اسپتال منتقل
جمعرات 28 اپریل 2016    |    14:48

اسلام آباد(۔28 اپریل 2016ء): جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمان کو معدے کی تکلیف ہوئی جس کے بعد انہیں پمز اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
(خبر جاری ہے)

اسپتال ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے مختلف ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں جس کے بعد انہیں شام تک ڈسچارج کیے جانے کا امکان ہے۔
قاید ملت اسلامیہ قاید جمعیت علما اسلام حضرت مولنا فضل الر حمن صاحب کی صحت یابی کیلے ساتھی خصوصی دعائیں کرے

April 27, 2016

قائد جمیعت حضرت مولانا فضل الرحمن کے چھوٹے بھائی فرزند مفتی محمود افغان کمشنر و ڈی سی او خوشاب انجنئیر ضیاء الرحمن صاحب جب چارج سنبھالنے افغان کمشنریٹ پہچے۔ تو عملے نے وتدالہانہ استقبال کیا۔ اس دوران میں نے ایک بات کو نوٹ کیا کہ انجنئیر صاحب عملے کے تمام اراکین چاہے وہ سول افسران ہو پولیس افسران ہو یا عام چپڑاسی اور کلرک ہو سب سے فردا فردا انتہائی ملنساری سے گلے ملے۔ اس ویڈیو کے دیکھنے کے فورا بعد میں نے خداوند و برتر سے یہ دعا کی کہ ﷲ تعالی انجنئیر صاحب جیسا ایماندار دیانتدار خوش اخلاق ملنسار اور محبت کرنے والا ڈی سی او پاکستان کے ہر ضلع کو نصیب فرمائے۔ اہلیان خوشاب ضیاءالرحمن صاحب سے انتہائی خوش اور اپنے ایک نعمت خداوندی سمجھتے ہیں۔ ڈی سی او صاحب کی دیانتداری کے اپنے تو درکنار پرائے بھی قائل ہیں اور انجنئیر صاحب نوجوان افسران کیلئے ایک مشعل راہ ہیں۔ محمد ابراہیم خان سعودی عرب

ڈی جی رینجرز جنرل جناب بلال اکبر کا جامعۃالعلوم الاسلامیہ کے ختم بخاری کے پروگرام سے خطاب : انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اسلام کے نام پر ہی قائم رہے گا ۔۔۔۔۔۔۔،،،،پاکستان کے تمام طبقات آپس میں بھائی بھائی ہیں ان کو مل جل کر رھنا ہوگا ۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،قرآن کریم کی وجہ سے صحابہ کرام اور تمام مسلمانوں کو عزت ملی آج بھی مسلمان قرآن سے وابستہ ہو کر عزت یافتہ ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔۔،،،،،،میرا دینی مدارس اور علماء سے پرانہ تعلق ہے میرے والد جامعہ اشرفیہ سے فیض یافتہ تھے ۔۔۔۔۔۔،،، نوجوان فضلاء ہر کام تسلسل سے کریں روزانہ قرآن وحدیث کی تلاوت کا معمول بنائیں ،۔۔۔۔۔۔،،،،میں نے ترجمہ قرآن سیاچن کے محاذ پر پڑھا اور تیس سال سے قرآن کی تلاوت اور تفسیر کا مطالعہ کبھی ترک نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔،،،، قرآن کا مطالعہ نظم وضبط سکھاتا ہے ۔۔۔۔۔،،،، میں نے سندھ کے بارڈر پر ڈیوٹی کے دوران بخاری اور مشکوة تفصیل سے پڑھیں ۔۔۔۔۔۔،،،، نوجوان علماء دین کی تبلیغ میں نرمی والا اندازاختیار کریں ۔۔۔۔،،،حدیث شریف میں ہے کہ جو نرمی سے محروم کردیا گیا وہ تمام بھلائیوں سے محروم کردیا گیا ۔لھذاتبلیغ میں نرمی ہو جس کے اثرات زیادہ ہوں گے ۔۔۔۔۔،، ، میں دین کا طالبعلم ہوں اور تاحیات دین کا طالب علم رھنا چاھتا ہوں ۔۔ پاکستان زندہ باد ۔

March 17, 2016

اپنے کا نے شاگرد کی سوال کے جواب میں مرزے مسرور قادیانی کا رونا دھونا...

اپنے کا نے شاگرد کی سوال کے جواب میں مرزے مسرور قادیانی کا رونا دھونا... انصافیوں. سے میرا سوال ہے کہ قادیانی سربراہ آخر عمران خان کو اپنے لیے نجات دہندہ کیوں سمجھتے ہیں۔ ؟ عمران خان سے اتنے پرامید کیوں ھے ؟
********************************************************
جب تک مولوی حکومت میں ہیں ؛ پاکستان میں ہماری حق میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی... ہم جس افسر کے پاس ؛ یا پولیس والوں کے پاس جاتے ہیں ؛تو وہ جواب دیتے ہیں کہ مولویوں کی وجہ سے ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ہم عمران خان کے لئے دعا کرسکتے ہیں ؛ مگر مولویوں کے ہوتے ہوئے وہ بھی کچھ نہیں کر پایئنگے....... قادیانیوں کی کہانی ؛ قادیانی سربراہ مرزا مسرور کی سیاسی مولویوں سے متعلق روتے دھوتے ہوئے ...
جو لوگ دن رات کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن یا دیگر مولویوں نے سیاسی میدان میں کیا کیا ہے.. ؟ تو اگر محمد عربی صلی الله علیہ وسلم کی ناموس سے متعلق قانون ان مولویوں کی وجہ سے محفوظ ہے ؛ تو پھر کسی مسلمان کے لئے اور کیا چاہئے..... ؟
پوری ملکی و غیر ملکی میڈیا ؛ لبرل ؛سیکولر اور ملک کی بعض قادیانی نواز اسٹیبلشمنٹ کے گھوڑے پر سوار نام نہاد تبدیلی کے علمبردار ہمارے خلاف کیوں ہیں ..... ؟ اور ان قوتوں سے ہماری جنگ کیوں ہے ؛ ویڈیو دیکھ کر ہر عقلمند کو سمجھ آ جائے گا۔
خدا کی قسم!! سیاسی میدان کے یہ چند جبہ و دستار والے کسی نعمت سے کم نہیں ؛ اور پوری زندگی ان کی جوتے سیدھے کرتے ہوئے بھی ان کے احسانات کا بدلہ چکایا نہیں جا سکتا ...
...روغانی …

چادر ؛؛ مائی فٹ

چادر ؛؛ مائی فٹ...
پی ٹی وی پاکستان کا قومی چینل ہے... جو پاکستانی قانون اور آیئن کے رو سے ملک کی اسلامی تشخص کے دفاع کی ذمہ دار ہے.... جب سے پاک ٹی والے باباجی اس کا ایم ڈی لگا ہے... تب سے سیکولر چھڑیل نما عارفہ کھلے عام اسلامی شعائر اور مشرقی اقدار کی دھجیاں بکھیر رہی ہے... عطاءالحق قاسمی صاحب کی خاموشی معنی خیز لگتی ہے...
دو روز قبل مشہور ہم ج نب س پرست حمایتی سیکولر فاشسٹ ماروی سرمد نے دوپٹے کے بارے ميں کہا کہ چادر مائی فٹ........ مگر ایم ڈی پی ٹی وی اور حکومت تاحال خاموش ہیں ...
اصل بات یہ ھے کہ یہ سیکولر فاشسٹ ہی اصل دہشت گرد اور انتہاء پسند ہے.. مذہبی طبقے کو انتہاء پسندی کے طعنہ دینے والے یہی سیکولر فاشسٹ ہی تو تھے ؛ جنہوں نے ترکی میں آذان تک کے اسلامی شعائر پر پابندی لگائی ؛ یہی سیکولر فاشسٹ ہی تو تھے ؛ جنہوں نے تاجکستان میں 12 ہزار قاریوں کو تندوروں میں ڈال کر زندہ جلادیا ؛ تاکہ ہمیشہ کے لئے علماء اور حفاظ تاجکستان سے ختم ہو ... طالبان ہو یا داعش ؛ سب انہی سیکولر فاشسٹوں کے عسکری ونگز ہیں ... کیونکہ وہ اسلام کے نام پر جبکہ یہ سیکولر فاشسٹ مذہب دشمنی کے لحاظ سے آخری حد سے نکل گئے ہیں۔ .
خدانخواستہ اگر ملک سیکولر بن جاتا ہے... تو یہاں مسلمانوں کا کیا حال ہوگا.... ؟
....روغانی …

February 18, 2016

سعودی عرب سے ایک دوست کی تحریر


پچھلے دس سال میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب "غم نا کریں" کے مصنف ڈاکٹر عائض القرنی کہتے ہین:
چند راتیں پہلے کی بات ہے، میں نے اپنے بستر پر، نیند آ جانے سے پہلے، اپنے پہلو میں سوئی، اپنی بیوی کے چہرے کو غور سے دیکھا، اس کی پیاری سی اور نرم و نازک شکل پر کافی دیر غور کرتا رہا، پھر میں نے اپنے آپ سے کہا:
کیا مسکین ہوتی ہے یہ عورت بھی،
برسوں اپنے باپ کی شفقت کے سائے تلے اپنے گھر والوں کے ساتھ پلتی بڑھتی ہے،
اور اب کہاں ایک ان واقف شخص کے ساتھ آ کر سوئی پڑی ہے،
اور اس نا واقف شخص کیلئے اس نے اپنے گھر بار ماں باپ چھوڑا،
والدین کا لاڈ و پیار اور ناز نخرا چھوڑا،
اپنے گھر کی راحت اور آرام کو چھوڑا،
اور ایسے شخص کے پاس آئی پڑی ہے جو بس اسے اچھے کی تلقین اور برائی سے روکتا ہے،
اس شخص کی دل و جان سے خدمت کرتی ہے،
اس کا دل بہلاتی ہے، اس کو راحت اور سکون دیتی ہے،
تاکہ بس اس کا رب اس سے راضی ہو جائے،
اور بس اس لئیے کہ یہ اس کیلئے اس کے دین کا حکم ہے،
سبحان اللہ۔۔۔۔
کہتے ہیں، پھر میں نے اپنے آپ سے سوال کیا:
کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ؛، جو بیدردی اور بے رحمی سے
اپنی بیویوں کو مار پیٹ لیتے ہیں،
بلکہ کچھ تو دھکے دیکر اپنے گھر سے بھی باہر نکال کرتے ہیں،
انہیں واپس اپنے ماں باپ کے اس گھر لا ڈالتے ہیں
جو وہ اس کی خاطر چھوڑ کر آئی تھی۔
کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ؛، جو بیویوں کو گھر میں ڈال کر دوستوں کے ساتھ نکل کھڑے ہوتے ہیں،
ہوٹلوں میں جا کر وہ کچھ کھاتے پیتے ہیں جس کا ان کے گھر میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا،
کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ؛، جن کے باہر اٹھنے بیٹھنے کا دورانیہ ان کے اپنے بیوی بچوں کے پاس اٹھنے بیٹھنے کے دورانیئے سے زیادہ ہوتا ہے۔
کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ؛، جو اپنے گھر کو اپنی بیوی کیلئے جیل بنا کر رکھ دیتے ہیں، نا انہیں کبھی باہر اندر لیجاتے ہیں، اور نا ہی کبھی ان کے پاس بیٹھ کر ان سے دل کا حال سنتے سناتے ہیں۔
کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ؛، جو اپنی بیوی کو ایسی حالت میں سلا دیتے ہیں کہ اس کے دل میں کسی چیز کی خلش اور چھبن تھی، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اس کا گلا کسی قہر سے دبا جا رہا تھا۔
کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ؛، جو اپنی راحت اور اپنی بہتر زندگی کیلئے گھر چھوڑ کر باہر نکل کھڑے ہوتے ہیں، پیچھے مڑ کر اپنی بیوی اور بچوں کی خبر بھی نہیں لیتے کہ ان پر ان کے باہر رہنے کے عرصہ میں کیا گزرتی ہوگی۔
کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ؛، جو ایسی ذمہ داری سے بھاگ جاتے ہیں جس کے بارے میں ان سے روز محشر پوچھ گچھ کی جائے گی جیسا کہ ہمارے پیارے رسول صل اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے۔
پیارے مرد: تو ہمیشہ یہی دہراتا رہتا ہے ناں! (یقیناً تم عورتوں کا فریب بڑا (خطرناک) ہوتا ہے، (سورة يوسف-28)
کبھی تو نے اپنے آپ سے یہ سوال بھی کیا ہے کہ اس آیت میں آخر کس فریب کا اور کیوں ذکر کیا گیا ہے؟
اور اس فریب کا ذکر اور قول کس کی زبان سے منسوب کیا گیا ہے؟
اور اس فریب کا سبب کیا بتایا گیا ہے؟
کسی کی محبت کیلئے! کسی کے حسن و جمال کیلئے! کسی کی شرم و حیا کیلئے! کیونکہ اس زمانے کی عورتوں کا عاشق مزاج ہونا عام بات تھی ناں!
اور پھر یہ قول نکلا ہوا کس کی زبان سے ہے؟
"عزیر" کی زبان سے ناں؟
اور پھر یہ قول نکلا کس کیلئے ہے؟
"عزیز" کی اپنی بیوی اورت اس زمانے کی عورتوں کیلئے ناں؟
لیکن؛
تو نے کبھی مردوں کے مکر و فریب کے بارے مین بھی سنا کیا؟
(اے میرے بیٹے! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا، ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی پُر فریب چال چلیں گے۔ بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، (سورۃ یوسف -5)
اس آیت کو پڑھ اور غور سے دیکھ؛ اس میں کس مکر و فریب کا ذکر کیا جا رہا ہے؟
پھر یہ بھی دیکھ کہ اس فریب کے بارے میں بتانے والا کون ہے؟
اور یہ فریب ہے کن کا؟ اور اس فریب کا سبب کیا ہے؟
حسد، کراہت، ناپسندیدگی، ظلم-
اور پھر یہ قول نکلا ہوا کس کی زبان سے ہے؟
سیدنا یعقوب علیہ السلام کی زبان مبارک سے ناں!
اور پھر یہ قول نکلا کس کیلئے ہے؟
خود سیدنا یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کیلئے ناں؟
اچھا تجھے اس بات کا تو علم ہے ہی
کہ تمہارے (مردوں کے) مکر و فریب کا ذکر عورتوں کے مکر و فریب سے پہلے بیان کیا گیا ہے۔ فرق واضح ہے کہ:
انہوں نے مکر و فریب کس سے سیکھا؟
انہوں نے یہ مکر و فریب بھی تو ہم مردوں سے ہی سیکھا۔
ہمارا (مردوں کا) مکر و فریب کراہت کیلئے تھا،
اور ان عورتوں کا مکر و فریب محبت کیلئے تھا۔
ہمارے مکر و فریب کا ذکر سیدنا یعقوب کی زبان سے نکلا ہے،
اور ان کے مکر و فریب کا ذکر "عزیز" کی زبان سے نکلا ہے۔
کس کی بات میں زیادہ حکمت و دانائی ہے؟

Now zalmi's in Peshawar

Now zalmi's in Peshawar can get our shirts, flees, jackets & black jackets from our official merchandiser located in Peshawar Sadar
Ziddis tailors & droppers
Peshawar Sadar
Opposite Junaid jamahed outlet
Near GPO

Contact No.
0315-9326162

نجم سیٹھی کون ہے ؟

نجم سیٹھی کون ہے ؟ دیکهئے چونکا دینے والا کالم .... حیرت اس بات پر ہے کہ یہ شخص اچانک سب سے بڑے صوبے کے نگران وزیر اعلیٰ بنتے ہیں ؛ کبهی بال اور بلا ہاتھ میں نہیں لیا ہے ؛ مگر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور پهر پاکستان سپر لیگ کے چیئرمین بهی بن جاتے ہیں ...
=======================
محترمہ سیدہ میمنت حسین اور ان کے شوہر۔
پہلے محترمہ کا کچھ تعارف اور پھر ان کے شوہر پر مختصر نظر۔

( تحریر محمد عبدہ )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دائرے میں نظر آنے والی خاتون کا نام سیدہ میمنت حسین ہے۔ محترمہ کی لاہور مال روڈ پر ریگل چوک کے پاس ایک انگریزی کتابوں کی بہت بڑی دوکان ہوتی ہے۔ جس میں ایک پبلشرز ادارہ بھی ہے۔ اس کا نام وینگارڈ بکس Vanguard Books ہے۔ (اب یہ وہاں سے کسی اور جگہ منتقل ہوچکا ہے)۔ اس ادارہ کی خاص بات یہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی اسلام ، نبی اکرم ص کے خلاف یا پاکستان کے خلاف کوئی کتاب شائع ہو اور وہ کہیں سے نا ملے۔ آپ وینگارڈ بکس سے خرید سکتے ہیں۔ اور اگر دستیاب نا ہوتو آرڈر کریں یہ آپ کو منگوا دیں گے۔ گستاخ رسول سلمان رشدی ہو یا تسلیمہ نسرین کی کتابیں جب پورے پاکستان میں بین تھیں۔ سیدہ میمنت حسین کی وینگارڈ بکس سے باآسانی مل جاتی تھیں۔ تہمینہ درانی کی متنازعہ کتاب My fuddle Lords بھی 1991 میں اسی ادارے نے شائع کی تھی۔

1999 میں سیدہ میمنت حسین کے شوہر نے حکومت کی کرپشن پر کچھ کالم لکھے اور بھارت کے اندر تقریر کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔ اس وقت بھارت میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر اشرف قاضی نے حکومت پاکستان کو ان کی تقریر بھیجتے ہوئے پاکستان مخاف قرار دیا اس کے نتیجے میں ان پر غداری کا مقدمہ دائر ہوا جیل میں بند کر دئیے گئے۔ کہ انہوں نے بھارت میں پاکستان دشمن تقریریں کی ہیں۔ محترمہ نے پوری دنیا کو خط لکھے۔ اقوام متحدہ ، امریکہ ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ورلڈ بنک سے مدد کی درخواست کی۔ اسلام آباد میں امریکی سفیر نے نواز شریف سے خصوصی ملاقات میں اس کے شوہر کو بازیاب کرنے کا کہا۔ ورلڈ بنک کے صدر جیمز نے خصوصی فون کئے۔ اور ایک ماہ بعد ان کے شوہر واپس گھر آگئے۔

اس سے پہلے جب 1996 میں صدر لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کو کرپشن کے الزام میں برطرف کرنے کے بعد عام انتخابات کرائے۔ معراج خالد کونگران وزیر اعظم مقرر کیا تو محترمہ کے شوہر ان کی کابینہ میں احتساب کے وزیر بنے۔ نواز شریف کے دور میں بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے الزام میں جو مقدمات قایم ہوئے وہ دراصل ان کے شوہر کے دور میں تیار ہوئے تھے. 1996 میں ہی ان کی مدد واعانت سے بی بی سی نے بے نظیر بھٹو اور آ صف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے الزامات کے بارہ میں پرنسیس اینڈ پلے بوائے کے نام سے ایک ڈاکومنٹری تیار کی تھی۔

اس سے بھی کچھ پہلے 1984 میں محترمہ کے شوہر نے ایک کتاب اپنے اخبار میں شائع کی۔ یہ کتاب کیمونسٹ، سوشلسٹ اور نیشنلسٹ نظریات کے مطابق لکھی گئی جس وجہ سے ضیاء الحق حکومت نے ان کو جیل میں ڈال دیا لیکن کچھ عرصہ بعد رہا کر دئیے گئے۔ اس سے بھی بہت پہلے کی بات ہے۔ 1973 میں لندن میں کریم بلوچ نے آزاد بلوچستان کے نام سے ایک تحریک چلائی۔ کیمونسٹ نظریات کے حامل ’’لندن کلب‘‘ کے پانچ نوجوان بلوچستان لبریشن فرنٹ کی مسلح جدوجہد میں حصہ لینے کےلیے خفیہ طور پر بلوچستان آئے۔ ان میں ایک احمد رشید ، پاکستان فضایہ کے ایک اعلی افسرکے بیٹے دلیپ داس ، جسٹس رحمان کے دو بیٹے راشد رحمان ، اسد رحمان اور محترمہ کے شوہر شامل تھے۔ ان میں سے کوئی بھی بلوچستان کا رہنے والا نہیں تھا بلکہ پانچوں پنجابی تھے۔ کھوج لگانے پر پتہ چلا کہ ’ لندن کلب‘ کے یہ پانچوں نوجوان ایک سال تک بلوچستان کے پہاڑوں میں رہے جہاں انہیں تربیت دی گئی۔ بلوچی سکھائی گئی اور وضع قطع بلوچوں ایسی بنائی گئی۔ جہاں یہ پانچوں پاک فوج کے خلاف گوریلا جنگ لڑتے رہے۔ دلیپ داس سندھ کی سرحد کے قریب سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔ سیدہ میمنت کے شوہر کو 1975 میں ذوالفقار علی بھٹو نے غداری کے الزام میں گرفتار کرکے دوسرے بلوچ علیحدگی پسندون کے ساتھ حیدرآباد جیل میں قید کردیا۔ 1978 میں جنرل ضیاء کی طرف سے عام معافی کے تحت ان تمام بلوچ رہنماوں کی رہائی کے ساتھ ان کو بھی رہا کردیا گیا۔

اب آتے ہیں اصل کہانی پر۔ محترمہ میمنت حسین اپنے اصل نام کی بجائے جگنو محسن کے نام سے مشہور ہیں۔ اور ان کی اصل وجہ شہرت ان کے یہ مشہور ترین اور متنازعہ ترین شوہر ہیں جن کا نام نجم سیٹھی ہے۔ یہ نجم سیٹھی صاحب ہی ہیں جن کی بھارتی نژاد چڑیا ممبئی اور دہلی کا دانہ چگتی اور نظریہ پاکستان کے مقدس اوراق پر گستاخانہ چونچیں مارتی رہتی ہے۔ کبھی ان کے بارے جنگ گروپ کے شاہین صہبائی کی طرف سے یورپ میں تین ملین ڈالرز کا بنگلہ خریدنے کا سکینڈل سامنے آتا ہے۔ اور کبھی یہ طلعت حسین جیسے صحافیوں کی طرف سے بے نقاب ہونے کے بعد اچانک روپوش ہو کر بدیسی آقاؤں سے تازہ ہدایات لینے ولائیت پہنچ جاتے ہیں۔ حال ہی میں ” قومی شناخت بمقابلہ مذہبی شناخت ” کے عنوان سے ان کا ایک کالم نظر سے گذرا۔ کالم کیا تھا حسب معمول حضرت قائد اعظم اور نظریہ پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی سے بھری ان کی سابقہ زہر آلودہ تحریروں کا ہی اک تسلسل اور ہندوآتہ کی طرف سے تفویض کردہ مقدس فریضہ مہا بھارتی کا پیشہ ورانہ شاہکار تھا۔ کالم پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ سیٹھی صاحب میں مجیب الرحمن، مہاتما گاندھی اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کی روح حلوت کر چکی ہے۔

February 12, 2016

بت ہم کو کہیں کافر، اللہ کی مرضی ہے

بت ہم کو کہیں کافر، اللہ کی مرضی ہے

محمد حسین کھرل

(26 جنوری کا کالم روزنامہ اوصاف، ہماری ویب اور دنیا پاکستان پر)
شنید ہے کہ تاجکستان کی حکومت نے داڑھیوں کے خلاف آپریشن کلین اپ شروع کر رکھا ہے. کاش ایسی کوئی خبر میرے ملک میں بھی سننے میں آئے.داڑھیاں اور حجاب ہی نہیں، دوپٹے بھی نوچ لئے جائیں، تاکہ حسن بے حجاب پھرا کرے. "تہذیب نو" سرعام اٹھکھیلیاں کرتی ہو. مذہب پر پابندی لگے، الحاد کا دور دورہ ہو اور زبان پر نام خدا لینا جرم ٹھہرے. نام تو جمہوریت کا ہی ہو، مگر جمہور کی مرضی سے نہیں. بلکہ ہماری "روشن فکر" کے مطابق قوانین تشکیل پائیں. کیونکہ فرسودہ خیالات کے حامل جمہور کیا جانیں تہذیب جدید کے تقاضے؟
جی ہاں شخصی، مذہبی اور اظہار رائے کی آزادی کی حسرت میں چھپے یہی وہ ارمان ہیں جو میرے لبرلز برادران وطن کے من میں مچلتے رہتے ہیں. اور روگ کی صورت آئے دن انہیں اندر ہی اندر سے گھائل کئے جارہے ہیں. جبھی تو ان کے ہاں اس قدر چڑچڑا پن در آیا ہے، کہ وطن عزیز پر جب بھی کوئی افتاد ٹوٹے، ان کے نزدیک اس کے ذمہ داران علمائے دین اور اہل مذہب ہوں گے
قلب و جگر ہی نہیں روح تک چھلنی ہے
راجن پور کی رانی کے ساتھ جو بیتی، اس کا صدمہ ہر اس شخص کو ہوا جس کے اپنے آنگن میں ننھی 'رانیوں' سے رونق ہےـ نوٹس، نوٹس کھیلنے کے عادی حکمرانوں نے اگر چند ایسے درندوں کو نشانہ عبرت بنایا ہوتا تو راجن پور کی رانی کی ماں کو یہ دکھ نہ جھیلنا پڑتا. دل حساس ابھی اس دکھ سے سنبھل نہ پایا تھا کہ کارخانو مارکیٹ پشاور کے دھماکے میں شہید ہونے والوں کا صدمہ ان کا منتظر تھا، مگر ہمارے قومی روح و رواں کی یہ چھید ان درندوں کی ہوس کی آسودگی کیلئے کافی نہ ہوئی۔ ابھی ان شہداء کی تدفین کر کے پلٹے ہی تھے کہ گھات لگائے درندوں نے ہمیں چارسدہ یونیورسٹی میں آن دبوچا. اور کبھی نہ بھرنے والا ایک اور گھاؤ ہمارے قومی وجود پر لگا گئے.
جب ان درندوں کے خلاف پوری قوم سراپا وحدت ہے کہ سب کے قلب و جگر یکساں چھلنی ہیں، ایسے میں بھی میرے لبرلز برادران وطن اپنے مشن میں جتے ہوے ہیں. جیسے فکری انتشار باور کرانا مقصود ہو.
حسبِ معمول ان کی صفوں سے سوال اٹھا ہے کہ پاکستان بھر سے کسی ایک عالم دین کا نام بتائیے. جس نے الفاظ چبائے، چونکہ، چنانچہ اور اگر مگر کئے بغیر اپنے پورے قد سے کھڑے ہو کر دہشت گردوں کو دہشت گرد کہا ہو؟ جب بغض و عناد تجاہل عارفانہ پر مجبور کر دے. تو13, 14, 15 اپریل2010 کو جامعہ اشرفیہ لاہور میں منعقد ہونے والا پورے دیوبندی مکتب فکر کا اجلاس اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والا متفقہ فتوی. جس میں وطن عزیز میں مسلح جدوجہد کو حرام قرار دیا گیا تھا نظر نہیں آتا. یہ طوطا چشمی تو خود کش حملوں کو حرام قرار دینے کی پاداش میں شہید ہونے والے مفتی اعظم مفتی حسن جان اور مفتی سرفراز نعیمی کی شہادت کو بھی نظروں سے اوجھل کر دیتی ہے.
اگر میرے ان لبرلز برادران وطن کی طبع نازک پر گراں نہ گزرے تو ان سے سوال کرنے کی جسارت کروں گا کہ اپنی صفوں سے کوئی ایک مولانا معراج الدین شہید پیش کر سکتے ہو؟ جنہوں نے فاٹا کے شورش زدہ علاقہ میں پورے قد کے ساتھ کھڑے ہو کر آئین کی بالادستی اور جمہوری جدوجہد کی بات کی. اور اس کی پاداش میں جام شہادت نوش کیا. یا وانا کے مولانا نور محمد شہید جیسا؟ جنہوں نے بغیر لگی لپٹی رکھے ان دہشت گردوں کو مجاہد ماننے سے انکار کیا. یا لکی مروت سے تعلق رکھنے والے مولانا محسن شاہ شہید جیسا؟ جنہوں نے بہ بانگ دہل اس درندگی کو درندگی کہا.

جن کی اپنی گرہ میں اس عفریت کے خلاف عملی جدوجہد کرنے والا کوئی ایک ہیرا بھی نہ ہو. اور ان کے پلے صرف باتیں ہی باتیں ہوں. انہیں زیب نہیں دیتا کہ وہ ان علمائے دین پر تنقید کریں جنہوں نے بے سروسامانی اور 'دو طرفہ' عدم تحفظ کے ماحول میں حق گوئی کا علم بلند رکھا ہوا ہے.اکبر الہ آبادی مرحوم یاد آ گئے

سورج میں لگے دھبہ فطرت کے کرشمے ہیں
بت ہم کو کہیں کافر، اللہ کی مرضی ہے
وفاق المدارس سے لے کر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی، مفتی محمد تقی عثمانی، جامعہ بنوری ٹاؤن کے مہتمم ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر اور دینی سیاسی جماعتوں تک کون ہے جس نے اس دہشت گردی کی مذمت نہیں کی؟ چاہیے تو یہ تھا کہ علمائے دین کے اس موقف کو اجاگر کیا جاتا. تاکہ دشمن کو پیغام ملتا، کہ آؤ دیکھو اہل علم کا وزن کس پلڑے میں ہے اور وہ کس کے ساتھ کھڑے ہیں. لیکن بجائے علمائے دین کا موقف اجاگر کرنے کے بیک جنبش قلم ان کے کردار پر ہی سوال کھڑے کر دینا. جبکہ دشمن اپنا مقدمہ پہلے ہی خود ساختہ دینی بنیادوں پر پیش کر رہا ہو. کیا دشمن کے موقف کو تقویت پہنچانے کے مترادف نہیں؟

جب قوموں کو حوادث کا سامنا ہو تو اس کا راستہ وہ خود آگے بڑھ کر روکا کرتی ہیں. مصیبت کے وقت تقسیم ہو جانے والوں کو تاریخ بھی اپنے اوراق میں جگہ نہیں دیتی. قوموں کی خطائیں قدرت معاف نہیں کیا کرتی. جب پوری قوم حکومت کی پشت پر کھڑی ہو اور حکومت قوم پر سایہ فگن. تب جا کر مصائب کا رخ پھیرنا ممکن ہو پاتا ہے.
اس کیلئے عوام و حکومت کے درمیان اعتماد باہمی لازم ہے. کیونکہ اعتماد باہمی ہی قوم سازی کی خشت اول ہوتی ہے. لیکن آہ...! کیسا المیہ ہے کہ ایک قوم بننا تو دور کی بات. شاید ہم تو ابھی قوم سازی کی نیو ہی نہ اٹھا پائے.
رویوں کا تضاد تو ملاحظہ کیجئے ایک طرف شکایت ہے کہ علمائے دین اس گمراہی کے خلاف کھڑے نہیں ہوتے اور دوسری طرف اگر علمائے کرام آئین کی بالادستی کی بات کرتے ہوئے جمہوری جدوجہد میں شریک ہو کر مسلح جدوجہد کی عملاً نفی کرنا چاہیں تو ان لبرلز کو تھیوکریسی نظر آنے لگتی ہے.
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

انسانیت کے قاتل انسانیت کے مرنے کی منظر کشی کررہے ہیں ----

انسانیت کے قاتل انسانیت کے مرنے کی منظر کشی کررہے ہیں ----
افریقہ کے صحرا میں ایک صحافی کیمرا لئے تصویر بنا رہا تھا اس کی تصویر میڈیا پر آتے ہی زلزلہ برپا کردیتی ہے
تصویر دیکھ کر بہت سی آنکھوں سے آنسو بہے مغرب کو انسانیت کا علمبردار کہا گیا کہ مغرب کا ایک صحافی اتنے دور تپتے صحراء میں اس بچے تک پہنچتا ہے جو کمزوری اور نحیفی کے سبب چلنے سے معذور ہے اور اس کے پیچھے بیٹھا گدھ اس انتظار میں ہے کہ کب اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کرے اور گدھ کی غذاء کا سامان ہو، منظر تبدیل ہوتا ہے
جگہ وہی ہے افریقہ ایک انگریز ٹیٹوز زدہ عورت ہاتھ میں پانی کی بوتل پکڑے ایک نحیف اور انتہائی کمزور بچے کو پانی پلا رہی ہے، پل ہی پل میں پورے میڈیا پر اس انگریز خاتون کے چاچے مامے بھتیجے بھائی جاگ جاتے ہیں اور صرف وہی نہیں جاگتے بلکہ ان کے اندر کی انسانیت بھی تڑپ اٹھتی ہے،
دنیا بھر سے موم بتی مافیا، سول سوسائٹی کے نمائندے جاگ اٹھتے ہیں ہاتھوں میں شمعیں پکڑے ؟ میڈیا پر بیٹھے ریٹنگ ریٹنگ کا گیم کھیلتے میڈیائی ناگ بلند آوازوں سے انسانیت کا درس دینے لگ جاتے ہیں ؟
لیکن کسی نے سوال نہیں پوچھا کہ آخر انسانیت کو اس مقام تک پہنچایا کس نے ہے؟
انسانی حقوق کی باتیں کرنے والوں نے کبھی یہ سوال نہیں کیا کہ وہ کونسی طاقتیں تھیں جنہوں نے مشرق وسطی سے لیکر افریقہ تک کے ساحلوں کو بدامنی ، غربت ، کے اندھیرے سائے میں ڈبو دیا ہے،
وہ کون تھے جنہوں نے پرامن دنیا کو جلا کر آگ کا ڈھیر بنا دیا، وہ کون سی طاقتیں تھیں جنہوں نے اپنے امن کی خاطر نصف سے زیادہ دنیا کو آگ میں جھونک دیا ؟؟ جنہوں نے اپنی قوت و طاقت کے بل پر کئی خطوں کو بھوک افلاس کی دلدل میں دھکیل دیا؟؟؟
ظلم کرتے چلے جاؤ؟ انسانیت کو قتل کرتے چلے جاؤ؟ دنیا کے امن و امان کو تہس نہس کرکے رکھ دو؟ اور جب انسانیت بِلکتی ہوئی سِسکتی ہوئی اپنے گھٹنوں پر گھسٹتی ہوئی کچرے کے ڈھیر پر آگرے تو آپ کو انسانیت یاد آ جائے
خود قتل بھی کرتے چلے جاؤ اور کرامات بھی کرتے چلے جاؤ
کیا ان خود نمائی کے شوقین انگریزوں کے مامے اور بھتیجے بتا سکتے ہیں کہ مذہب سے پہلے انسانیت کی کیا اہمیت تھی،
کیا مذہب سے پہلے وہ انسانیت تھی کہ معمولی سی بات پر پورے پورے خاندان کو قتل کردیا جاتا تھا؟ اور صدیوں تک جنگ جاتی رہتی تھی؟؟
کیا وہ انسانیت تھی کہ بیٹی کو زندہ درگور کردیا جاتا؟
کیا وہ انسانیت تھی کہ جب انسان لباس سے عاری تھا؟ شرم و حیاء سے کوسوں دور تھا؟
اور پھر مذہب نے انسان کو کیا اہمیت دی؟؟؟؟
اس پانی پلانے والی تصویر کو دیکھنے والو ذرا 1400 سال پہلے کا وہ منظر بھی دیکھ لو جب صحابہ کرام رضوان اللہ آخری سانس لیتے ہوئے بھی اپنے بھائی کو پانی پلانے کی تمنا کررہے تھے،------انسانیت کو انسیت اور محبت کی جلا بخشنے والا مذہب ہے،---رب کا خوف انسانیت کا احترام پیدا کرتا ہے۔ ---زمین پر سجدہ کرنا انسان کو اس کی اصل پہچان بتاتا ہے،---
وہ کون تھا جس نے دنیا میں سب سے پہلے مزدور کے ہاتھوں کو چوم کر انسانیت کو عزت بخشی --- ﷺ
وہ کون تھا جس نے دشمن کی بیٹی کے سر پر دوپٹہ رکھ کر انسانیت کو عزت و احترام کا بلند مقام عطا کیا، ﷺ
وہ کون تھا جس کو پتھر مارے گئے- جس کے سر پر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دی گئی؟-- جس کا بائیکاٹ کیا گیا ؟ --جس کو اپنے شہر سے ہجرت پر مجبور کردیا گیا-- جس کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے؟ --لیکن پھر بھی وہ کانٹے بچھانے والی کی عیادت کو چلا آیا ﷺ ----لیکن پھر بھی اس نے اپنا بدلہ کسی سے نہ لیا؟ ---وہ میرے اور آپ کے نبی ﷺ تھے جنہوں نے بنی نوع انسان کو انسانیت کا شعور عطا کیا،
اگر آپ انسانیت کو مذہب سے جدا سمجھتے ہیں تو بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا ہوگا --کیونکہ جہلاء مکہ کی نزدیک بیٹی کی پیدائش غیرانسانی عمل تھا اس کو زندہ درگور کردینا انسانیت کا معیار تصور کیا جاتا تھا- انسانیت انسانیت کا راگ الاپنے والے موسمی دانشوروں سے صرف اتنی گزارش ہے کہ جناب
جو مذہب آپ کو انسانیت نہ سکھا سکے وہ اسلام نہیں ہوسکتا
اور جو انسانیت آپ کو رب کا سچا مذہب نہ بتلا سکے وہ انسانیت نہیں ہوسکتی
"خان"

انسانیت کے قاتل کون

 وہ کونسی طاقتیں تھیں جنہوں نے مشرق وسطی سے لیکر افریقہ تک کے ساحلوں کو بدامنی ، غربت ، کے اندھیرے سائے میں ڈبو دیا ہے، وہ کون تھے جنہوں نے پرامن دنیا کو جلا کا آگ کا ڈھیر بنا دیا، وہ کون سی طاقتیں تھیں جنہوں نے اپنے امن کی خاطر نصف سے زیادہ دنیا کو آگ میں جھونک دیا ؟؟ جنہوں نے اپنی قوت و طاقت کے بل پر کئی خطوں کو بھوک افلاس کی دلدل میں دھکیل دیا؟؟؟ ظلم کرتے چلے جاؤ؟ انسانیت کو قتل کرتے چلے جاؤ؟ دنیا کے امن و امان کو تہس نہس کرکے رکھ دو؟ اور جب انسانیت بِلکتی ہوئی سِسکتی ہوئی اپنے گھٹنوں پر گھسٹتی ہوئی کچرے کے ڈھیر پر آگرے تو آپ کو انسانیت یاد آ جائے خود قتل بھی کرتے چلے جاؤ اور کرامات بھی کرتے چلے جاؤ کیا ان خود نمائی کے شوقین انگریزوں کے مامے اور بھتیجے بتا سکتے ہیں کہ مذہب سے پہلے انسانیت کی کیا اہمیت تھی، کیا مذہب سے پہلے وہ انسانیت تھی کہ معمولی سی بات پر پورے پورے خاندان کو قتل کردیا جاتا تھا؟ اور صدیوں تک جنگ جاتی رہتی تھی؟؟ کیا وہ انسانیت تھی کہ بیٹی کو زندہ درگور کردیا جاتا؟ کیا وہ انسانیت تھی کہ جب انسان لباس سے عاری تھا؟ شرم و حیاء سے کوسوں دور تھا؟ کیا وہ انسانیت تھی جسے آپ لوگ پتھر کا دور کہتے نہیں تھکتے؟ اور پھر مذہب نے انسان کو کیا اہمیت دی؟؟؟؟ اس پانی پلانے والی تصویر کو دیکھنے والو ذرا 1400 سال پہلے کا وہ منظر بھی دیکھ لو جب صحابہ کرام رضوان اللہ آخری سانس لیتے ہوئے بھی اپنے بھائی کو پانی پلانے کی تمنا کررہے تھے،—

”یہ کھلاڑی پاکستان کرکٹ کا مستقبل ہے“شین واٹسن نے صاف صاف بتا دیا


شین واٹسن نے رومان رئیس کو پاکستان کا مستقبل قرار دیدیا ، رومان رئیس صلاحیتوں سے مالا مال اور بہترین باؤلر ہیں ، شین واٹسن،رومان رئیس اب تک کھیلے گئے میچوں میں شاندار رہے ہیں،ٹی ٹوئنٹی کو بہتر سمجھتے ہیں ، دباوٴ سے اپنے آپ کو کیسے نکالنا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہے، انٹرویو۔



شارجہ( 13فروری۔2016ء) عالمی شہرت یافتہ آسٹریلین آل راوٴنڈر شین واٹسن نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے منتخب ہونے والے نوجوان پاکستانی فاسٹ باوٴلر رومان رئیس کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صلاحیتوں سے مالا مال اور بہترین باوٴلر ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا مستقبل ہیں ۔رومان رئیس پی ایس ایل میں شین واٹسن کے ساتھ اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے کھیل رہے ہیں جبکہ انھیں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اور ایشیا کپ کے لیے پاکستانی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔
شین واٹسن نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ہماری ٹیم میں بائیں ہاتھ سے فاسٹ باوٴلنگ کرنے والے رومان رئیس اب تک کھیلے گئے کچھ میچوں میں شاندار رہے ہیں، وہ باصلاحیت اور نوجوان ہیں اور وہ اپنے کھیل کے حوالے سے بہتر سمجھ رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کہ رومان رئیس گیم اور ٹی ٹوئنٹی کو بہتر سمجھتے ہیں جبکہ دباوٴ سے اپنے آپ کو کیسے نکالنا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہے، وہ واحد کھلاڑی تھے جو میرے ساتھ کھڑے رہے اور جتنے میچز کھیلے ہیں ان میں وہ متاثر کن کارکردگی دکھائی۔
رومان رئیس نے 40 ڈومیسٹک میچوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ پی ایس ایل میں اب تک انھوں نے 5.88 کی شاندار اوسط سے باوٴلنگ کی ہے۔شین واٹسن نے پی ایس ایل کی تعریف کی اور اسے پاکستان کرکٹ کے لیے سود مند قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل پاکستان کرکٹ کے لیے شاندار چیز ہے، نوجوان کھلاڑیوں کو حوصلہ دینے کے لیے ورلڈ کلاس کھلاڑیوں کے خلاف کھیلنا پاکستان کرکٹ کی ترقی کے لیے بہترین چیز ہو گی ۔

جمعیت علمائے اسلام کے رہنماء اور ضلعی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مولانا عبید الرحمان

ڈیرہ اسما عیل خان(محمد فضل الرحمان) جمعیت علمائے اسلام کے رہنماء اور ضلعی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مولانا عبید الرحمان نے کہا ہے کہ غیر سنجیدہ عناصر کے ہاتھوں ڈیرہ اسما عیل خان کی ضلعی حکومت یر غمال ہے ، جس طرح صوبائی حکومت کے معاملات غیر سنیجدہ لوگوں کے ہاتھوں میں چلے جانے کے باعث عوام مسائل کا شکار ہیں اسی طرح ڈیرہ اسما عیل خان میں بھی ضلعی حکومت عوامی مسائل کے حل میں غیر سنجیدگی کی وجہ سے ناکامی سے دوچار ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے صحافیوںسے گفتگو کے دوران کیا، انہوں نے کہا کہ ہم مثبت اور تنقید برائے اصلاح کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں، ضلعی حکومت نے ضلع ڈیرہ اسما عیل خان کا بجٹ قوائد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے منظور کرنے کاا علان کیا جو درست نہیں، اگر ضلع کونسل میں قوائد کے مطابق بجٹ پیش کیا جاتا اور اس پر تین دن بحث کی جاتی، اپوزیشن کی مثبت تجاویز کا خیر مقدم کیا جاتا اور ہمیں اعتماد میں لیا جاتا تو ہم بجٹ کی منظوری میں تعاون کرتے مگر ضلعی حکومت کی نیت درست نہیں تھی، بجٹ میں عوامی فنڈز کو زاتی مقاصد کے لیئے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، یہ بتایا جائے کہ ضلع ڈیرہ اسما عیل خان میں کون ساہیلی کاپٹر ہے جس کے فیول کی مد میں خطیر رقم کی منظوری ضلعی بجٹ میں حاصل کی گئی، جب بھی گورنر یا وزیر اعلیٰ کسی ضلع جاتے ہیں تو وزیر اعلیٰ اور گورنر سیکریٹریٹ کی جانب سے مذکورہ ضلعی حکومت کو ہیلی کاپٹر کے فیول کی ادائیگی کردی جاتی ہے تو پھر ضلعی بجٹ میں ہیلی کاپٹر کے فیول کی رقم کی لینا کہاں کا انصاف ہے، انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام جس طرح صوبے کی ترقی کے اہم منصوبے پاک چین اقتصادی راہداری کے معاملہ پر صوبائی حکومت کے ساتھ متحد ہو کر آواز بلند کر سکتی ہے وہیں ہم ڈیرہ اسما عیل خان کی ترقی کے لیئے ضلعی حکومت کا بھی بھرپور ساتھ دینے کا جذبہ رکھتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ ضلعی حکومت حقیقی معنوں میں عوامی خدمت اور ترقی پر گامزن ہو، البتہ عوام کا نام لیکر کرپشن کے معاملات میں ہم ضلعی حکومت کا بھرپور راستہ روکیں گے، انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا مولانا فضل الرحمان کی کوششوں سے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر کام کا حکومت نے باقائدہ اعلان کردیا ہے یہ روٹ اس خطہ کی تقدیر بدل دے گا، انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے ثابت کیا ہے کہ دورس اثرات کے حامل منصوبوں کو اس خطہ میں سے گذارانے سے یہاں کے عوام صدیوں اس کے ثمرات سے مستفید ہوں گی ، انہو ں نے کہا کہ انشاء اللہ اگلے ماہ میں اس مغربی روٹ کا باقائدہ افتتاح بھی کردیا جائے گا، ایک سوال کے جواب میں مولانا عبید الرحمان نے کہا کہ ڈیرہ اسما عیل خان میں ہزاروں ایکڑ اراضی کی سیرابی کے لیئے نئی گریوٹی کینال کی تجویز پر بھی کام شروع ہے اور مغربی روٹ کے افتتاح کے بعد اس اہم منصوبے پر مولانا فضل الرحمان اس خطہ کے باسیوں کو خوشخبری سنائیں گے، انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسما عیل خان ائیر پورٹ کی توسیع اور اس کی بحالی کے حوالے سے بھی معاملات میں پیش رفت جاری ہے جس کے مثالی نتائج جلد سامنے آجائیں گے