May 1, 2016

جمیعت علماء اسلام اور مزدور کے حقوق

جــمــعــیــۃ عــلــمــاء اســلام اور مــزدور کــے حــقــوق
----------------
دین اسلام انسانیت كی فلاح و بہبود اور ترقی کا نظام ہے، تعلیمات اسلامیہ کا منشور فلاح انسانیت ، احترام آدمیت ، انسانی اقدار اور عزت نفس کا تحفظ ہے-
محسنِ انسانیت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہےکہ "مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے قبل اس كی اجرت ادا کردو-"

جمعیۃ علماء اسلام فلاح انسانیت کا منشور لے کر میدان عمل میں ہے، مزدور ہمارے ملک كی اساس ہیں، ہمیں اپنے ملک كی اساس مزدور کو جائز مقام دینا ہوگا-
جمعیۃ علماء اسلام کا واضح طور پر منشور ہیکہ "ہم زمین کے اوپر زمیندار کے جائز حق کو تسلیم کرتے ہیں لیکن تمہارا وہ مزارع جو تمہاری شراکت کےساتھ تمہاری زمینوں کو آباد کرتا ہے، شریعت اسلامیہ كی رو سے اسكی شراکت داری مسلَّمہ حق ہے، اسلئے ہم پورے ملک کے مزارعین کو یقین دہانی کرواتے ہیں کہ 'کسی بھی مزارع کو جبراً کوئی جاگیردار اور زمیندار زمین سے بےدخل نہیں کرسکے گا-'
جمعیۃ علماء اسلام اس بات پر یقین رکھتی ہےکہ اگر اس ملک کو حقیقی طور پر فلاحی ریاست بنانا ہے تو ہمیں مزدور کو اس کا مقام دلانا ہوگا، ہمیں تمام مزدور اور سرکاری ملازمین كی تنخواہوں اور ان كی اجرت میں تناسب پیدا کرنا ہے، ہم کسی بھی مزدور اور چھوٹے طبقے کے ملازمین کو کسی کا غلام نہیں بننے دینگے- کارخانہ دار کارخانے کا اگر جائز مالک ہے تو پھر مزدور بھی محنت میں اس کا شراکت دار ہے، ہم نے اس كی شراکت داری کو مستحکم کرنا ہے، اسلئے جمعیۃ علماء اسلام مزدور طبقہ کو باعزت زندگی و مرتبہ دینے کیلئے فلاح انسانیت کے علمبردار اسلام کے منشور كی روشنی میں حقوق مزدور کے تحفظ کیلئے کوشاں ہے، ہم مزدور یونین کو صنعتوں کے بورڈ آف گورنر سے پچاس فیصد کا حصہ دار بنانا چاہتے ہیں، کیونکہ کارخانہ دار کے کارخانوں كی چمنیوں سے جو دھوئیں نکل رہے ہیں وہ مزدور اور محنت کش ملازمین كی محنت و مشقت اور پسینہ كی بدولت ہیں، اور ایک محنت کش کا خون اور پسینہ مقدس ہے، محنت کش اللہ کا دوست ہے، اس کے پسینے پر قربان جائیں-
خدا كی قسم ایک جاگیردار و سرمایہ دار كی جاگیر اور قلعہ بند محلات كی قیمت ایک مزدور اور غریب کے پسینہ کے برابر نہیں ہوسکتی-

(قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمن حفظہ اللہ کے  29 مارچ 2013ء کی اسلام زندہ باد کانفرنس لاہور کے خطاب سے اقتباس)

مرتب# محمد سفیان بہاولپور

No comments:

Post a Comment