May 11, 2016

میرا سیدھا سادہ سوال

میرا سیدھا سادہ سوال ... ایک اہم ترین تحریر
===================
پختونخوا میں  تین سالوں سے  پاکستان تحریک انصاف   کی حکومت  ہے...  صوبائی احتساب کمیشن  ان کی ہے...  جس نے پیپلز پارٹی  ؛ عوامی نیشنل پارٹی  اور خود تحریک انصاف  کے ایک صوبائی وزیر کو گرفتار  کیا ہے ؛ جبکہ دیگر وزراء  کے  خلاف  کیس بن چکا ہے...  وفاقی نیب .بھی موجود  ہے  ؛ ایف آئی اے  بھی موجود  ہے ...  اس وقت  مسلم لیگ ن ؛ پیپلز پارٹی ؛ عوامی نیشنل پارٹی  ؛ تحریک انصاف  سمیت دسیوں  پارٹیوں  کے رہنماؤں  کے خلاف  کاروائی  بھی کررہی ہے۔

عمران خان  صاحب  جلسوں میں  تو مولانا فضل الرحمن صاحب  کے خلاف  خوب الزامات  لگارہے ہیں ؛ مگر  پختونخوا کی  صوبائی حکومت  ؛ صوبائی  احتساب  کمیشن ؛ نیب سمیت دیگر اداروں کو  مولانا فضل الرحمن  صاحب  ؛ ان کے بھایئوں ؛ جمیعت علماء اسلام  کی مرکزی  قیادت اور ممبران اسمبلی  کے خلاف ابھی تک ریفرنس بنا کر  کاروائی  کی توفیق کیوں  نہیں  کر رہی  ہے۔  ؟؟؟

عمران خان  اور تحریک انصاف  کی صوبائی  حکومت  سے  ہم درخواست  کرتے ہیں  کہ  ہمت کرلے....  مولانا فضل الرحمن صاحب  ؛ ان کے بھایئوں ؛ سابق وزیر اعلیٰ  اکرم خان درانی  اور جمیعت علماء اسلام  کی دیگر  صوبائی  قیات ؛ موجودہ  و سابقہ    ممبران اسمبلی  کے خلاف کیس بناکر کاروائی  شروع کردے...  ہم آپ کا ساتھ  دینگے

ورنہ ہم  یہی سمجھیں گے  کہ آپ صرف الزامات  در الزامات  لگاکر جھوٹ  بول رہے ہو... 

...روغانی...

May 7, 2016

One Muslim League N worker reply to Murad Saeed

ایک ن لیگی ورکر کا مراد سعید کو خوبصورت جواب۔

کل مراد سعید ایک ٹی وی پروگرام پہ کہہ رہا تھا کہ میں مولانا فضل الرحمن صاحب سے صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں اپ کے گھر کے دروازے سے پچھلے پندرہ سال سے ایک چادر لٹک رہی ہے وہ کیا ہے اور کس کی ہے ؟
میں اج بتاتا ہوں کہ مولانا صاحب کے دروازے سے لٹکتا ہوا چادر اور اس کی ہسٹری کیا ہے ؟
میں حلفیہ کہتا ہوں کہ میرا تعلق نہ جماعت علما اسلام سے ہے اور نہ کسی دیگر مذہبی جماعت سے لیکن میں اج جو لکھوں گا سچ لکھوں گا اور سچ کی سیوا کچھ نہیں لکھوں گا
ڈیرہ اسماعیل خان میں مولانا فضل الرحمان صاحب کی گھر کے دروازے سے جو چادر لٹک رہی ہے وہ ضرور ان کے والد گرامی مفتی محمود مرحوم کی دستار ہوگی لیکن اپ کو معلوم نہیں ہے کہ مراد سعید کی شلوار اج تک کدھر لٹک رہی ہے ؟
چلو میں بتاتا ہوں
مراد سعید صاحب وہ لوگ اچھے طرح سے جانتے ہیں جو دو ہزار چھ اور سات کے دوران جہانزیب کالج سوات میں پڑھتے تھے موصوف کا تعلق  سوات تحصیل کبل سے ہے ان کی گاوں کا نام ڈھیرئ ہے ۔بچپن سے کرکٹ کا شوقین تھا اور ایک اچھا پلیئر بھی ہے موصوف دو ہزار اٹھ میں چکدرہ لوئر دیر اکثر کرکٹ کھیلنے آتا تھا ادھر وہ رات کی لئے کسی لونڈے بازوں کیساتھ گزارتا تھا ایک دن لونڈے باز کے مخالف گروپ نے اس کو زبردستی دریائے سوات کے کنارے ایک جنگل نما جگہ لے کے گیا جدھر اج تک موصوف کی شلوار ایک انجیر کی درخت سے لٹک رہی ہے اس کے گواہ اج بھی چکدرہ کے تمام لوگ ہے ۔

May 5, 2016

یہ شخص مسخرہ ہے!!!!

Aziz Bin Aziz
یہ شخص مسخره ہے!
زیک گولڈ اسمته لندن کے میئر شپ کا الیکشن لڑ رہا ہے، ہمارے کپتان صاحب بذات خود ان کی الیکشن کمپیئن کے لیے اپنے دو "اے ٹی ایم" مشینوں کے ساتھ لندن جا کر وہاں مسلمانوں ووٹروں سے ملاقاتیں کی اور انہیں دعوت دی کہ وه (میرے سابق یہودی سالے ) زیک گولڈ اسمته کو کامیاب کریں،
ظاہر ہے کپتان یہودیوں عیسائیوں کو تو دعوت دینے سے رہا،،، اس لیے کہ غیر مسلموں کو زیک گولڈ اسمته خود اپنی دولت شہرت اور یہودی چالوں سے متاثر کر ہی لے گا،
واپسی پر جیو نیوز کے حامد میر نے کپتان سے پوچها کہ، ایک مسلمان امیدوار صادق خان (وه کتنا ہی بد عمل کیوں نہ ہو ) کے مقابلے میں آپ ایک یہودی زیک گولڈ اسمته کو سپورٹ کرنے لندن گئے، کیوں؟،،،،
کپتان کا جواب کچھ یوں تها،مختصراً یہ کہ،،،
میں صادق خان کو نہیں جانتا،
زیک(یہودی ) کو میں نے سیاست میں آنے کا کہا اور وه "ایماندار " امین "صادق "اور سچا ہے "،،،،،،!
(اسے کہتے ہیں پاور فل الفاظ کا سرٹیفیکیٹ ایک مسلمان کا اسرائیل نواز یہودی کے لیے )
آگے دیکهیں ہوا کیا،،،!
اس یہودی زیک گولڈ اسمته نے مخالف امیدوار جو کہ مسلمان ہے اس کا ووٹ بینک خراب کرنے کے لیے ایک کالم میں لکها کہ اگر،،،،، ( لندن کے ووٹرز نے ) صادق (مسلمان) کو کامیاب کرایا تو لندن جیسا مشہور شہر دہشت گردوں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا!،،،،
نفرت دیکهیں مسلمان سے، اور اس مسلمان سے جس کی نہ داڑھی نہ پگڑی نہ مدرسہ کا استاد نہ مسجد کا امام نہ کبهی زندگی میں اسلامی نظام کے لیے کوئی اس کا کردار ہے، بلکہ بہت ساری بداعمالیوں میں مبتلا ہوگا،لیکن نفرت،،،،
کپتان لندن کن کو کہنے گیا تها کہ (یہودی ) زیک گولڈ اسمته کو کامیاب کریں؟،،، ظاہر ہے مسلمانوں کو،،،
اور یہ یہودی زیک گولڈ اسمته نے کس کے جیتنے پر لندن شہر کو دہشتگردوں کہ ہاتھ چلے جانے کو کہا ؟،،،،
ظاہر ہے صادق خان ایک مسلمان کے جیتنے پر، ،،،!
کہنے والے ایک درویش نے بہت پہلے کہہ دیا تها کہ یہ یہودیوں کا ایجنٹ ہے، بس،، میرے کہنے سے کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا،
میرا تو بس ایک لطیفہ اور بات ختم،،،،،،
حامد میر ؛ عمران کوئی خوب ہنسنے والا لطیفہ سنا دو؟
عمران غصہ میں؛ دیکهیں حامد،،! میں ایک سیاست دان ہوں کوئی مسخره نہیں،،،،
حامد میر خوب ہنستے ہوئے؛،،، اچها تها،،،،، اسی طرح کا ایک اور سنا دو

May 1, 2016

ڈیرہ کا دشمن کون ؟

ثبوت مل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مفتی زاہد شاہ ڈیروی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزیراعظم نواز شریف طے شدہ شیڈول کے مطابق خیبر پختونخوا اور سندھ کے چنداضلاع کے دورے پر جارھے ھیں،جہاں وہ ترقیاتی پیکج ،بالخصوص چائنا پاک اقتصادی راھداری  کے حوالے سے اھم منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھ رھے ھیں۔گزشتہ روز مانسہرہ میں جلسہ عام کے بعد وزیر اعظم 3 مئی کو بنوں ،6 مئی کو سکھر ،10 مئی کو کوھاٹ اور 12 مئی کو ڈیرہ اسماعیل خان کا دورہ کریں گے جہاں وہ اجتماعات سے خطاب اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے۔۔۔۔۔دوسری جانب بے لگام صحافت کے  بیوپاری  ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک مقامی اخبار"ڈیرہ نیوز" کےمالکان  کے پیٹ میں "ڈیرہ دوستی"کے مروڑاٹھ رھے ھیں ،کیونکہ انہیں اپنے فنانسر وڈیروں کی امیدوں پر ایک بار پھر پانی پھرتا دکھائی دے رھا ھے۔یوں وہ وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان آمد سے قبل دورہ بنوں کو تنقیدکا نشانہ بناتے ھوئے اسے مولانا فضل الرحمن کی "ڈیرہ دشمنی " سے تعبیر کررھے ھیں،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر سے بے خبر ،کمال کی صحافت ھے یار،،،،،،،،، جب وزیر اعظم کے دورے کا شیڈول   مشتہر ھوچکا ھے،اس میں ڈیرہ اسماعیل خان بھی شامل ھےتو پھراس پر قبل ازوقت طوفان بدتمیزی کاآخرکیا جوازبنتاھے ،،، کیا رائے ھے احباب کی ،کہ  اسےتجاھل عارفانہ کا مصداق کہاجائے یا تعارف جاھلانہ کا شاھکار "؟

مولانا فضل الرحمن کی دوران معائنہ ویڈیو بنانے پر پمز ہسپتال کا ڈاکٹر معطل

اسلام آباد: مولانا فضل الرحمٰن کی دورانِ معائینہ ویڈیو بنانے پر پمز ہسپتال کا ڈاکٹر معطل
اتوار 1 مئی 2016    |    16:03

اسلام آباد:( تازہ ترین اخبار ۔1مئی 2016ء): جمیعتِ علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی ڈاکٹری معائینے کے دوران ویڈیو بنا کرسوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ڈاکٹر کو ہسپتال انتطامیہ نے معطل کر دیا ہے ۔اور ایک اسکے خلاف کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پیمز ہسپتال اسلام آباد کے ایک ڈاکٹر نے جمیعتِ علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان کے پمز میں کروائے گئے طبی معائنہ کی ایک ویڈیو کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیا تھا۔
جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بحث کا آغاز ہو گیا اور بیشتر لوگوں نے ڈاکٹر کے اس روئیے کو غیر اخلاقی قرار دیا۔ مذہبی حلقوں کی طرف سے ہسپتال انتطامیہ کو ڈاکٹر کے اس رویئے کے بارے میں شکایات موصول ہوئیں ہیں۔ پمز ہسپتال کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے پرو فیسر عابد فاروقی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔ جو ڈاکٹر کی طرف سے ویڈیو بنانے کے محرکات کا جائزہ لے گی۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کے پمز ہسپتال کو تین ہفتوں میں دوسری دفعہ خفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سے پہلے 9اپریل کو پمز کے ڈاکٹر کی طرف سے ا یک 29 سالہ لڑکی سے مبعینہ زیادتی کی شکایت سامنے آئے تھے.

جمیعت علماء اسلام اور مزدور کے حقوق

جــمــعــیــۃ عــلــمــاء اســلام اور مــزدور کــے حــقــوق
----------------
دین اسلام انسانیت كی فلاح و بہبود اور ترقی کا نظام ہے، تعلیمات اسلامیہ کا منشور فلاح انسانیت ، احترام آدمیت ، انسانی اقدار اور عزت نفس کا تحفظ ہے-
محسنِ انسانیت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہےکہ "مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے قبل اس كی اجرت ادا کردو-"

جمعیۃ علماء اسلام فلاح انسانیت کا منشور لے کر میدان عمل میں ہے، مزدور ہمارے ملک كی اساس ہیں، ہمیں اپنے ملک كی اساس مزدور کو جائز مقام دینا ہوگا-
جمعیۃ علماء اسلام کا واضح طور پر منشور ہیکہ "ہم زمین کے اوپر زمیندار کے جائز حق کو تسلیم کرتے ہیں لیکن تمہارا وہ مزارع جو تمہاری شراکت کےساتھ تمہاری زمینوں کو آباد کرتا ہے، شریعت اسلامیہ كی رو سے اسكی شراکت داری مسلَّمہ حق ہے، اسلئے ہم پورے ملک کے مزارعین کو یقین دہانی کرواتے ہیں کہ 'کسی بھی مزارع کو جبراً کوئی جاگیردار اور زمیندار زمین سے بےدخل نہیں کرسکے گا-'
جمعیۃ علماء اسلام اس بات پر یقین رکھتی ہےکہ اگر اس ملک کو حقیقی طور پر فلاحی ریاست بنانا ہے تو ہمیں مزدور کو اس کا مقام دلانا ہوگا، ہمیں تمام مزدور اور سرکاری ملازمین كی تنخواہوں اور ان كی اجرت میں تناسب پیدا کرنا ہے، ہم کسی بھی مزدور اور چھوٹے طبقے کے ملازمین کو کسی کا غلام نہیں بننے دینگے- کارخانہ دار کارخانے کا اگر جائز مالک ہے تو پھر مزدور بھی محنت میں اس کا شراکت دار ہے، ہم نے اس كی شراکت داری کو مستحکم کرنا ہے، اسلئے جمعیۃ علماء اسلام مزدور طبقہ کو باعزت زندگی و مرتبہ دینے کیلئے فلاح انسانیت کے علمبردار اسلام کے منشور كی روشنی میں حقوق مزدور کے تحفظ کیلئے کوشاں ہے، ہم مزدور یونین کو صنعتوں کے بورڈ آف گورنر سے پچاس فیصد کا حصہ دار بنانا چاہتے ہیں، کیونکہ کارخانہ دار کے کارخانوں كی چمنیوں سے جو دھوئیں نکل رہے ہیں وہ مزدور اور محنت کش ملازمین كی محنت و مشقت اور پسینہ كی بدولت ہیں، اور ایک محنت کش کا خون اور پسینہ مقدس ہے، محنت کش اللہ کا دوست ہے، اس کے پسینے پر قربان جائیں-
خدا كی قسم ایک جاگیردار و سرمایہ دار كی جاگیر اور قلعہ بند محلات كی قیمت ایک مزدور اور غریب کے پسینہ کے برابر نہیں ہوسکتی-

(قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمن حفظہ اللہ کے  29 مارچ 2013ء کی اسلام زندہ باد کانفرنس لاہور کے خطاب سے اقتباس)

مرتب# محمد سفیان بہاولپور