May 22, 2017
October 1, 2016
ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم سلیم باجوہ کا لائن آف کنٹرول کا دورہ
را ولپنڈی ۔ڈ ی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ بھارت اپنے نقصان کیوں چھپا رہا ہے وطن عزیز کا دفاع پہلے بھی کیا اب بھی کریں گے ۔ تفصیلات کے مطابق ہفتہ کے روز ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے لائن آف کنٹرول پر صحافیوں کے ہمراہ دورہ کیا باغ کے علاقے’’ سر‘‘ کے مقام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کوئی بھول میں نہ رہے وطن عزیز کا دفاع پہلے بھی کیا اب بھی کریں گے ۔
سرجیکل اسٹرائیک کا بے بنیاد جھوٹ بولا گیا پاکستان کی خاطر جو بھی کرنا پڑا کریں گے انہوں نے کہا کہ ہم نے لائن آف کنٹرول پر بھارت کو بھرپور جواب دیا ۔ہمیں یقین ہے کہ بھارت کی جانب ضرور ہلاکتیں ہوئی بھارت اپنے نقصان کیوں چھپا رہا ہے انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی بھارتی فوجی راستہ بھول کر پاکستان آیا ہے تو یہ معاملہ بھی دیکھ رہے ہیں ۔
September 30, 2016
گرفتار بھارتی فوجی پاکستان کی حدود میں چوری چھپے کیاکام کر رہا تھا ؟
August 25, 2016
June 2, 2016
پاک چین اقتصادی راہداری کا صنعتی زون ڈیرہ اسمعیل خان میں ہی قائم ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن
چین پاک اقتصادی راہداری، صنعتی زون ڈیرہ اسما عیل خان میں قائم ہوگا، مولانا فضل الرحمان
لفٹ کینال، ٹانک زام، مارجنل بند، واپڈا سے متعلق مطالبات منظور ہو گئے ہیں ، وزیر اعظم دفتر سے ان منصوبوں پر کام کے ڈائریکٹیوز کا مرحلہ وار اجرا کیا جا رہا ہے، گیس توسیعی منصوبہ کی رقم متعلقہ محکمہ کو مل گئی ہے ، بھارہ منصوبہ پر کام شروع کیا جائے گا
پچاس کلومیٹر طویل صنعتی زون سے علاقہ کی تقدیر بدلے گی، گومل یونیورسٹی کو مثالی بنانے کی ہر کوشش کا میں ساتھ دونگا، اس دھرتی کے باصلاحیت اور تعلیم یافتہ لوگ منصوبے لائیں پیش رفت کے لیئے ہم کردار ادا کریں گے
میری دعا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات سے اس خطہ کے باسی مستفید ہوں، ہمارا علاقہ پسماندہ نہیں اسے دور افتادہ رکھا گیا، زرعی یونیورسٹی کا قیام یہاں کے زمینداروں اور ماہرین تعلیم کا دیرنہ مطالبہ تھا ، خدا کا شکر گذار ہوں جس نے ہماری کوششوں کو بارآور کیا
( بشکریہ فضل الرحمن بیورو چیف روزنامہ اوصاف ڈیرہ اسماعیل خان )
May 11, 2016
میرا سیدھا سادہ سوال
میرا سیدھا سادہ سوال ... ایک اہم ترین تحریر
===================
پختونخوا میں تین سالوں سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے... صوبائی احتساب کمیشن ان کی ہے... جس نے پیپلز پارٹی ؛ عوامی نیشنل پارٹی اور خود تحریک انصاف کے ایک صوبائی وزیر کو گرفتار کیا ہے ؛ جبکہ دیگر وزراء کے خلاف کیس بن چکا ہے... وفاقی نیب .بھی موجود ہے ؛ ایف آئی اے بھی موجود ہے ... اس وقت مسلم لیگ ن ؛ پیپلز پارٹی ؛ عوامی نیشنل پارٹی ؛ تحریک انصاف سمیت دسیوں پارٹیوں کے رہنماؤں کے خلاف کاروائی بھی کررہی ہے۔
عمران خان صاحب جلسوں میں تو مولانا فضل الرحمن صاحب کے خلاف خوب الزامات لگارہے ہیں ؛ مگر پختونخوا کی صوبائی حکومت ؛ صوبائی احتساب کمیشن ؛ نیب سمیت دیگر اداروں کو مولانا فضل الرحمن صاحب ؛ ان کے بھایئوں ؛ جمیعت علماء اسلام کی مرکزی قیادت اور ممبران اسمبلی کے خلاف ابھی تک ریفرنس بنا کر کاروائی کی توفیق کیوں نہیں کر رہی ہے۔ ؟؟؟
عمران خان اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومت سے ہم درخواست کرتے ہیں کہ ہمت کرلے.... مولانا فضل الرحمن صاحب ؛ ان کے بھایئوں ؛ سابق وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی اور جمیعت علماء اسلام کی دیگر صوبائی قیات ؛ موجودہ و سابقہ ممبران اسمبلی کے خلاف کیس بناکر کاروائی شروع کردے... ہم آپ کا ساتھ دینگے
ورنہ ہم یہی سمجھیں گے کہ آپ صرف الزامات در الزامات لگاکر جھوٹ بول رہے ہو...
...روغانی...
May 7, 2016
One Muslim League N worker reply to Murad Saeed
ایک ن لیگی ورکر کا مراد سعید کو خوبصورت جواب۔
کل مراد سعید ایک ٹی وی پروگرام پہ کہہ رہا تھا کہ میں مولانا فضل الرحمن صاحب سے صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں اپ کے گھر کے دروازے سے پچھلے پندرہ سال سے ایک چادر لٹک رہی ہے وہ کیا ہے اور کس کی ہے ؟
میں اج بتاتا ہوں کہ مولانا صاحب کے دروازے سے لٹکتا ہوا چادر اور اس کی ہسٹری کیا ہے ؟
میں حلفیہ کہتا ہوں کہ میرا تعلق نہ جماعت علما اسلام سے ہے اور نہ کسی دیگر مذہبی جماعت سے لیکن میں اج جو لکھوں گا سچ لکھوں گا اور سچ کی سیوا کچھ نہیں لکھوں گا
ڈیرہ اسماعیل خان میں مولانا فضل الرحمان صاحب کی گھر کے دروازے سے جو چادر لٹک رہی ہے وہ ضرور ان کے والد گرامی مفتی محمود مرحوم کی دستار ہوگی لیکن اپ کو معلوم نہیں ہے کہ مراد سعید کی شلوار اج تک کدھر لٹک رہی ہے ؟
چلو میں بتاتا ہوں
مراد سعید صاحب وہ لوگ اچھے طرح سے جانتے ہیں جو دو ہزار چھ اور سات کے دوران جہانزیب کالج سوات میں پڑھتے تھے موصوف کا تعلق سوات تحصیل کبل سے ہے ان کی گاوں کا نام ڈھیرئ ہے ۔بچپن سے کرکٹ کا شوقین تھا اور ایک اچھا پلیئر بھی ہے موصوف دو ہزار اٹھ میں چکدرہ لوئر دیر اکثر کرکٹ کھیلنے آتا تھا ادھر وہ رات کی لئے کسی لونڈے بازوں کیساتھ گزارتا تھا ایک دن لونڈے باز کے مخالف گروپ نے اس کو زبردستی دریائے سوات کے کنارے ایک جنگل نما جگہ لے کے گیا جدھر اج تک موصوف کی شلوار ایک انجیر کی درخت سے لٹک رہی ہے اس کے گواہ اج بھی چکدرہ کے تمام لوگ ہے ۔

