ایک ن لیگی ورکر کا مراد سعید کو خوبصورت جواب۔
کل مراد سعید ایک ٹی وی پروگرام پہ کہہ رہا تھا کہ میں مولانا فضل الرحمن صاحب سے صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں اپ کے گھر کے دروازے سے پچھلے پندرہ سال سے ایک چادر لٹک رہی ہے وہ کیا ہے اور کس کی ہے ؟
میں اج بتاتا ہوں کہ مولانا صاحب کے دروازے سے لٹکتا ہوا چادر اور اس کی ہسٹری کیا ہے ؟
میں حلفیہ کہتا ہوں کہ میرا تعلق نہ جماعت علما اسلام سے ہے اور نہ کسی دیگر مذہبی جماعت سے لیکن میں اج جو لکھوں گا سچ لکھوں گا اور سچ کی سیوا کچھ نہیں لکھوں گا
ڈیرہ اسماعیل خان میں مولانا فضل الرحمان صاحب کی گھر کے دروازے سے جو چادر لٹک رہی ہے وہ ضرور ان کے والد گرامی مفتی محمود مرحوم کی دستار ہوگی لیکن اپ کو معلوم نہیں ہے کہ مراد سعید کی شلوار اج تک کدھر لٹک رہی ہے ؟
چلو میں بتاتا ہوں
مراد سعید صاحب وہ لوگ اچھے طرح سے جانتے ہیں جو دو ہزار چھ اور سات کے دوران جہانزیب کالج سوات میں پڑھتے تھے موصوف کا تعلق سوات تحصیل کبل سے ہے ان کی گاوں کا نام ڈھیرئ ہے ۔بچپن سے کرکٹ کا شوقین تھا اور ایک اچھا پلیئر بھی ہے موصوف دو ہزار اٹھ میں چکدرہ لوئر دیر اکثر کرکٹ کھیلنے آتا تھا ادھر وہ رات کی لئے کسی لونڈے بازوں کیساتھ گزارتا تھا ایک دن لونڈے باز کے مخالف گروپ نے اس کو زبردستی دریائے سوات کے کنارے ایک جنگل نما جگہ لے کے گیا جدھر اج تک موصوف کی شلوار ایک انجیر کی درخت سے لٹک رہی ہے اس کے گواہ اج بھی چکدرہ کے تمام لوگ ہے ۔
No comments:
Post a Comment