February 12, 2016

انسانیت کے قاتل کون

 وہ کونسی طاقتیں تھیں جنہوں نے مشرق وسطی سے لیکر افریقہ تک کے ساحلوں کو بدامنی ، غربت ، کے اندھیرے سائے میں ڈبو دیا ہے، وہ کون تھے جنہوں نے پرامن دنیا کو جلا کا آگ کا ڈھیر بنا دیا، وہ کون سی طاقتیں تھیں جنہوں نے اپنے امن کی خاطر نصف سے زیادہ دنیا کو آگ میں جھونک دیا ؟؟ جنہوں نے اپنی قوت و طاقت کے بل پر کئی خطوں کو بھوک افلاس کی دلدل میں دھکیل دیا؟؟؟ ظلم کرتے چلے جاؤ؟ انسانیت کو قتل کرتے چلے جاؤ؟ دنیا کے امن و امان کو تہس نہس کرکے رکھ دو؟ اور جب انسانیت بِلکتی ہوئی سِسکتی ہوئی اپنے گھٹنوں پر گھسٹتی ہوئی کچرے کے ڈھیر پر آگرے تو آپ کو انسانیت یاد آ جائے خود قتل بھی کرتے چلے جاؤ اور کرامات بھی کرتے چلے جاؤ کیا ان خود نمائی کے شوقین انگریزوں کے مامے اور بھتیجے بتا سکتے ہیں کہ مذہب سے پہلے انسانیت کی کیا اہمیت تھی، کیا مذہب سے پہلے وہ انسانیت تھی کہ معمولی سی بات پر پورے پورے خاندان کو قتل کردیا جاتا تھا؟ اور صدیوں تک جنگ جاتی رہتی تھی؟؟ کیا وہ انسانیت تھی کہ بیٹی کو زندہ درگور کردیا جاتا؟ کیا وہ انسانیت تھی کہ جب انسان لباس سے عاری تھا؟ شرم و حیاء سے کوسوں دور تھا؟ کیا وہ انسانیت تھی جسے آپ لوگ پتھر کا دور کہتے نہیں تھکتے؟ اور پھر مذہب نے انسان کو کیا اہمیت دی؟؟؟؟ اس پانی پلانے والی تصویر کو دیکھنے والو ذرا 1400 سال پہلے کا وہ منظر بھی دیکھ لو جب صحابہ کرام رضوان اللہ آخری سانس لیتے ہوئے بھی اپنے بھائی کو پانی پلانے کی تمنا کررہے تھے،—

No comments:

Post a Comment