سرکار کی طرف سے آج روزنامہ ایکسپریس میں دیا گیا اشتہار
اشتہار میں لکھی گئی باتوں سے ہمیں تو کوئی اختلاف نہیں___ لیکن بنائی گئی تصاویر سے اختلاف کرنا بہت ضروری سمجھتا ہوں___ تصویر میں دکھائے گئے لوگ سب پٹھانوں اور خصوصاً وزیرستان کے لباس میں ملبوس ہیں___ نکتہ اعتراض یہ ہے کہ کیا صرف پٹھان ہی دہشت گرد ہیں؟ اگر تصاویر دینا ضروری تھیں تو نقاب پوش بھی یہ کام سرانجام دے سکتے تھے___ کیا ضروری ہے کہ آپ ایک محب الوطن قوم کو یوں دہشت گردی سے نتھی کر رہے ہو؟ قوم بھی وہی جس نے سب سے زیادہ لاشیں اٹھائیں____
یہ انتہائی دکھ اور افسوس کی بات ہے___ آخر سرکار پختونوں کو کیا پیغام دینا چاہتا ہے؟ ایک طرف تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور قوم نہیں ہوتا تو دوسری طرف آپ دہشت گردوں کے حلیے پختون جیسے بنا رہے ہو___ آخر کیوں؟؟؟
سکول کی جو تصویر ہے اس میں خواتین پشتونوں کے برقعہ میں ملبوس ہیں___ جب کہ آخر میں جس خاتون نے بچہ اٹھایا ہے وہ پختون کے لباس میں نہیں.___ اس کا تو یہی مطلب بنتا ہے کہ پختون دھماکے کرتے ہیں ہم لاشیں اٹھاتیں ہیں
اشتہار میں لکھی گئی باتوں سے ہمیں تو کوئی اختلاف نہیں___ لیکن بنائی گئی تصاویر سے اختلاف کرنا بہت ضروری سمجھتا ہوں___ تصویر میں دکھائے گئے لوگ سب پٹھانوں اور خصوصاً وزیرستان کے لباس میں ملبوس ہیں___ نکتہ اعتراض یہ ہے کہ کیا صرف پٹھان ہی دہشت گرد ہیں؟ اگر تصاویر دینا ضروری تھیں تو نقاب پوش بھی یہ کام سرانجام دے سکتے تھے___ کیا ضروری ہے کہ آپ ایک محب الوطن قوم کو یوں دہشت گردی سے نتھی کر رہے ہو؟ قوم بھی وہی جس نے سب سے زیادہ لاشیں اٹھائیں____
یہ انتہائی دکھ اور افسوس کی بات ہے___ آخر سرکار پختونوں کو کیا پیغام دینا چاہتا ہے؟ ایک طرف تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور قوم نہیں ہوتا تو دوسری طرف آپ دہشت گردوں کے حلیے پختون جیسے بنا رہے ہو___ آخر کیوں؟؟؟
سکول کی جو تصویر ہے اس میں خواتین پشتونوں کے برقعہ میں ملبوس ہیں___ جب کہ آخر میں جس خاتون نے بچہ اٹھایا ہے وہ پختون کے لباس میں نہیں.___ اس کا تو یہی مطلب بنتا ہے کہ پختون دھماکے کرتے ہیں ہم لاشیں اٹھاتیں ہیں
No comments:
Post a Comment