ایم ایم اے کی مثالی حکومت - - اور میرٹ کی پاسداری
ایم ایم اے حکومت کے دوران سابق چیف سیکرٹری عبداللہ صاحب چار سال تک پبلک سروس کمیشن کے چئیرمین رہے، میرٹ کا لحاظ کرنے اور اصول پسندی میں اپنی مثال آپ تھے، اس پورے دورانیے میں وہ ہر قسم کی سفارش اور سیاسی پریشر سے آزاد رہے- خادم اعلٰی پختونخواہ الحاج اکرم خان درانی کو لکھے گئے خط میں اس کا اعتراف بہت خوبصورت انداز میں کیا ہے، اقربا پروری، سفارش کلچر، سیاسی اثر و رسوخ سے پاک ایک مثالی حکومت کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوسکتا ہے کہ متحد مجلس عمل کی حکومت میں میرٹ کلچر کو کس حد تک فروغ دیا گیا تھا-
بشکریہ:- مولانا امان اللہ حقانی (سابق صوبائی وزیر اوقاف خیبر پختون خواہ)
ایم ایم اے حکومت کے دوران سابق چیف سیکرٹری عبداللہ صاحب چار سال تک پبلک سروس کمیشن کے چئیرمین رہے، میرٹ کا لحاظ کرنے اور اصول پسندی میں اپنی مثال آپ تھے، اس پورے دورانیے میں وہ ہر قسم کی سفارش اور سیاسی پریشر سے آزاد رہے- خادم اعلٰی پختونخواہ الحاج اکرم خان درانی کو لکھے گئے خط میں اس کا اعتراف بہت خوبصورت انداز میں کیا ہے، اقربا پروری، سفارش کلچر، سیاسی اثر و رسوخ سے پاک ایک مثالی حکومت کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوسکتا ہے کہ متحد مجلس عمل کی حکومت میں میرٹ کلچر کو کس حد تک فروغ دیا گیا تھا-
بشکریہ:- مولانا امان اللہ حقانی (سابق صوبائی وزیر اوقاف خیبر پختون خواہ)
No comments:
Post a Comment